خامنہ ای کا بدلا رخ اور ٹرمپ کا فیصلہ، آخری لمحات میں ایران۔ امریکہ معاہدہ

,

   

واشنگٹن؍ تہران، 8 اپریل (یواین آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے چند گھنٹے قبل ایران امریکہ جنگ بندی کی صورتحال میں ڈرامائی موڑ اس وقت آیا، جب ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے پہلی بار امریکہ کے ساتھ معاہدے کے اشارے دیے ۔ رپورٹس کے مطابق، انہوں نے ایرانی مذاکرات کاروں کو امریکہ کے ساتھ زیادہ سنجیدگی سے بات چیت کرنے کی ہدایت دی، جسے علاقائی حکام نے ایک ’’بڑی تبدیلی‘‘قرار دیا ہے ۔ یہ موڑ اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے وارننگ دی تھی کہ اگر ایران نے امریکی مطالبات نہ مانے تو ’’پوری تہذیب تباہ ہو سکتی ہے ‘‘، جس میں آبنائے ہرمز کو کھولنے کی شرط بھی شامل تھی۔ایک طرف جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات چل رہے تھے ، وہیں پینٹاگون میں بڑے پیمانے پر حملوں کی تیاریاں بھی متوازی طور پر جاری تھیں۔ اس سے یہ واضح نہیں ہو پا رہا تھا کہ صورتحال سفارت کاری کی طرف جائے گی یا براہِ راست تصادم کی طرف۔ ‘ایکسیوس’ کی رپورٹ میں ایک دفاعی اہلکار کے حوالے سے کہا گیا، “ہمیں ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے ، یہ سب بہت ہی عجیب تھا۔سفارتی کوششیں کئی خفیہ مذاکرات کے ذریعے آگے بڑھیں۔ ذرائع کے مطابق، امریکی مندوب اسٹیو وٹکوف “انتہائی غصے میں” تھے اور انہوں نے ایران کی ابتدائی 10 نکاتی جوابی تجویز کو “ایک آفت اور تباہی” قرار دے کر مسترد کر دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں تجویز میں کئی تبدیلیاں کرنی پڑیںبیک چینل سفارتی کوششوں میں وٹکوف کے علاوہ ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور پاکستان، مصر اور ترکی کے ثالث شامل تھے ۔ جیسے جیسے دن ڈھلتا گیا، پیر کی رات تک ثالثوں نے ایک ترمیم شدہ خاکے کیلئے امریکہ کی منظوری حاصل کر لی۔ امریکہ ایک قلیل مدتی جنگ بندی کیلئے راضی ہو گیا اور اس طرح حتمی فیصلہ مکمل طور پر خامنہ ای کے ہاتھوں میں آگیابتایا گیا کہ آخری فیصلہ سپریم لیڈر کی منظوری پر منحصر تھا اور ان کی رضامندی کے بغیر کوئی معاہدہ ممکن نہیں تھا۔ اس دوران ایران میں ممکنہ حملوں کے خوف سے کچھ علاقوں میں لوگ گھر چھوڑنے لگے تھے ، جبکہ علاقائی ممالک بھی کسی بھی ردعمل کیلئے تیار تھے ۔ نائب صدر جے ڈی وینس بھی ان مذاکرات میں شامل رہے ، جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو مسلسل امریکہ کے ساتھ رابطے میں تھے ۔ اسرائیلی حلقوں میں اس عمل کو لے کر بے چینی تھی کیونکہ معاملہ ان کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا تھا۔بالآخر منگل کی دوپہر تک، ایک قلیل مدتی جنگ بندی کے حوالے سے دونوں فریقین کے درمیان ممکنہ اتفاق رائے بنتا نظر آیا۔ چند ہی گھنٹوں کے اندر، پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے عوامی طور پر اس تجویز کا خاکہ پیش کیا اور دونوں فریقین سے اسے قبول کرنے کی اپیل کی۔ غیر یقینی صورتحال اب بھی برقرار تھی کیونکہ کئی ذرائع نے اشارہ دیا تھا کہ جن لوگوں نے کچھ دیر قبل ٹرمپ سے بات کی تھی، ان کا اب بھی یہی خیال تھا کہ وہ اس تجویز کو سرے سے مسترد کر سکتے ہیں۔پاکستانی قیادت اور نیتن یاہو کے ساتھ بات چیت کے بعد ٹرمپ نے اسے قبول کر لیا۔ اس کے فوراً بعد خطے میں تعینات امریکی افواج کو حملے کی تیاری روکنے کے احکامات دیے گئے ۔ ایران نے بھی جنگ بندی پر عمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔I/H
وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمد و رفت ایرانی مسلح افواج کے تعاون سے جاری رہے گی، تاہم اس کی مدت اور شرائط ابھی مکمل واضح نہیں ہیں۔ تقریباً 39 روزہ جنگ کے بعد ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کی منظوری دے دی، جو آبنائے ہرمز کھولنے کی شرط سے مشروط ہے ۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب ایران کو ہرمز کی گزرگاہ کھولنے کیلئے دی گئی آخری مہلت ختم ہونے میں چند گھنٹے باقی تھے ۔ ٹرمپ کا مؤقف دن کے ابتدائی سخت بیان سے مختلف تھا، جس میں انہوں نے سخت دھمکی دی تھی۔شہباز شریف نے ، جنہوں نے ثالثی میں اہم کردار ادا کیا، “ایکس” پر بتایا کہ ایرانی اور امریکی وفود کو اسلام آباد میں مذاکرات کیلئے مدعو کیا گیا ہے ۔ٹرمپ کے مطابق معاہدہ آخری لمحات میں طے پایا اور اس کی بنیادی شرط یہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل و گیس کی ترسیل میں رکاوٹ ختم کرے ، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچویں مقدار گزرتی ہے ۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران جوابی حملے بند کرے گا اور گزرگاہ کو محفوظ بنایا جائے گا۔ٹرمپ نے “ٹروتھ سوشل” پر لکھا کہ “یہ دونوں جانب سے جنگ بندی ہوگی” اور دعویٰ کیا کہ امریکہ اپنے فوجی مقاصد حاصل کر چکا ہے اور اب طویل المدتی امن کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے ۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ ہرمز میں نقل و حمل کے مسائل حل کرنے میں مدد کرے گا، جبکہ ایران کو تعمیر نو کا موقع ملے گا اور “بڑے مالی فوائد” حاصل ہو سکتے ہیں۔ایرانی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل نے اس معاہدے کو اپنی فتح قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے ایران کی شرائط قبول کی ہیں۔دوسری جانب ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ اسرائیل نے جنگ بندی سے قبل امریکہ کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کی تھی، اور امریکہ اپنے مطالبات-جن میں یورینیم افزودگی کا خاتمہ اور بیلسٹک میزائل خطرے کا سدباب شامل ہے -پر قائم رہے گا۔یاد رہے کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی اس جنگ میں 10 سے زائد ممالک متاثر ہوئے اور 5000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ، جبکہ عالمی توانائی اور مالیاتی منڈیوں پر شدید اثرات پڑے ۔