خامنہ ای کی موت پر مودی کو اپنا موقف واضح کرنا چاہئے :راہول

   

امریکہ، اسرائیل، ایران جنگ نے خطہ کو وسیع تر تنازعہ کی طرف ڈھکیل دیا ہے

نئی دہلی، 3 مارچ (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہول گاندھی نے کہا ہے کہ ایران میں بگڑتی ہوئی صورتحال اور اس کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی موت ٹارگٹڈ قتل ہے اور حالات کو دیکھتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو اس پر اپنی واضح رائے کا اظہار کرنا چاہیے ۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ جنگ کی وجہ سے ایران اور دیگر خلیجی ممالک میں پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر ہندوستان کو واضح پالیسی پر عمل کرنا چاہیے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان مسلسل بڑھتے ہوئے تنازعہ نے خلیجی ممالک میں رہنے والے ہندوستانیوں کے لئے بھی غیر یقینی صورتحال کا بحران پیدا کر دیا ہے ۔ منگل کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں راہول گاندھی نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی ایک نازک خطے کو وسیع تر تنازعہ کی طرف دھکیل رہی ہے ۔ اس کے نتیجے میں خلیجی ممالک میں رہنے والے تقریباً 10 ملین ہندوستانیوں کے ساتھ ساتھ لاتعداد دیگر غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے سکیورٹی خدشات کو فطری قراردیا، لیکن کہا کہ خود مختاری کی خلاف ورزی کرنے والے حملے بحران کو مزید سنگین کر دیں گے ۔ ایران پر یکطرفہ حملوں کے ساتھ ہی ایران کی جانب سے مغربی ایشیا پر کیے جارہے حملے ، دونوں کی مذمت کی جانی چاہیے ۔ ان کا کہنا تھا کہ تشدد ہی تشدد کو جنم دیتا ہے ، اس لیے بات چیت اور تحمل ہی امن کا واحد راستہ ہے۔ کانگریس لیڈر نے کہا کہ ہندوستان کو اخلاقی طور پر واضح ہونا چاہیے ۔ ہمیں بین الاقوامی قانون اور انسانی زندگی کے دفاع میں کھل کر بولنے کی ہمت ہونی چاہیے ۔ ہماری خارجہ پالیسی خودمختاری اور تنازعات کے پرامن حل پر مبنی ہے اور اسے مستقل رہنا چاہیے ۔ وزیر اعظم مودی کو بولنا چاہیے ۔ کیا وہ عالمی نظام کی تعریف کرنے کے طریقے کے طورپر کسی سربراہ مملکت کے قتل کی حمایت کرتے ہیں۔ اب خاموشی دنیا میں ہندستان کی ساکھ کو کم کرتی ہے ۔