تیسرے مرحلے سے قبل بی جے پی پر اکھلیش یادوکا طنز
لکھنو: سماج وادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے بی جے پی پر طنز کرتے ہو ئے کہاکہ خاندان کے افراد ہی خاندان کے درد کو سمجھ سکتے ہیں۔ اکھلیش نے تیسرے مرحلہ کی تشہیر کے اختتام پرجمعہ کو آخری دن جالون کے مادھو گڑھ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے بی جے پی حکومت اور وزیر اعلی یوگی پر سخت تنقید کی۔اکھلیش یادو نے یوپی انتخابات کے دوران بی جے پی کے لیڈروں کی جانب سے ان پر اقربا پروری کے الزامات عائد کئے جانے کے بعد جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ خاندان کے افراد ہی خاندان کے درد کو سمجھ سکتے ہیں۔ انہوں نے مہنگائی، ترقی اور نوٹ بندی پر بی جے پی کوگھیر تے ہوئے کہا کہ ووٹنگ کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے رجحانات کے بعد گرمی دور کرنے کی بات کرنے والے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔اکھلیش یادو نے کہا کہ ’بابا‘ کا پسندیدہ جانور بہت سے لوگوں کی جان لے رہا ہے۔ گائے کے نام پر کروڑوں روپے کہاں گئے؟ الیکشن سے پہلے بی جے پی کے لوگ گھر گھر مہم چلا رہے تھے اور تھوک کر پمفلیٹ بانٹ رہے تھے۔ جب بی جے پی کے لوگ ووٹ مانگنے غریبوں کے گھر پہنچے تو غریبوں نے انہیں سرخ رنگ کے خالی سلنڈر دکھائے۔ انہوں نے کہا کہ 5 سالوں میں کیا ملا، بندیل کھنڈ کے لوگوں کو دھوکہ دیا گیا ہے۔
یہ حکومت ایم ایس پی بھی لاگو نہیں کر سکی، کسان کھاد لینے گئے تو اس میں 5 کلو چوری ہو گئی۔ نوٹ بندی میں غریبوں کا پیسہ بینک میں جمع تھا، وہ بھی چوری ہو گیا۔ صنعتکار پیسہ لے کر بھاگے، بتائیں کہ پیسہ لے کر بھاگنے والے صنعتکار کہاں کے ہیں؟سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کورونا کے دور میں یہ جماعت غریبوں کو نہ دوائی دے سکی نہ آکسیجن۔ یاد کریں جب لوگ لاک ڈاؤن میں گھوم رہے تھے اور اس پارٹی نے کسی خاندان کی مدد نہیں کی۔
کنبہ پروری کا الزام عائد کرنے والی پارٹی کو بتائیں کہ خاندانی فرد ہی خاندان کا درد سمجھ سکتا ہے۔
