l ہر چار میں سے ایک قتل خاندانی جھگڑوں کی وجہ سے ہورہا ہے
l گزشتہ سال 212 قتل اس زمرے میں آتے ہیں
l معمولی جھگڑے بھی جان لے رہے ہیں
حیدرآباد ۔ 6 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : آج کے اس دور میں تعلقات ختم ہورہے ہیں ۔ انسانیت جل رہی ہے ۔ خاندانوں میں جو پیار اور محبت مضبوط ہونا چاہئے ۔ اس کے بجائے پیسہ ، جائیداد اور غیر ازدواجی تعلقات زیادہ اہمیت اختیار کررہے ہیں ۔ شراب کی لت جیسی بری عادت صورتحال کو مزید خراب کررہے ہیں ۔ چاہے اسے پیسہ پینے کے لیے نہ دئیے جارہے ہوں ۔ جائیداد نہ دی جارہی ہو یا بڑا حصہ حاصل کرنے سے روکا جارہا ہو ایسے لوگوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے جو اپنے والدین اور بہن بھائیوں کو مار رہے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے کیسیس سامنے آرہے ہیں جو ان لوگوں کو قتل کررہے ہیں ۔ جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ انہیں غیر ازدواجی تعلقات سے روک رہے ہیں ۔ یہ تشویشناک ہے کہ 2025 میں ریاست میں ہونے والے ہر چار میں سے ایک قتل کے پیچھے یہی وجہ ہے ۔ صورتحال کی سنگینی اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ گذشتہ سال ریکارڈ کئے گئے 781 قتل میں سے 27 فیصد خاندانی جھگڑوں کی وجہ سے ہوئے ۔ ان کے علاوہ چھوٹے چھوٹے جھگڑوں ، پیسوں کے لیے جھگڑے اور غیر اخلاقی تعلقات سے پیدا ہونے والی حسد جیسی وجوہات پر بھی قتل ہورہے ہیں ۔ ایک زمانے میں دیہی علاقوں میں مشترکہ خاندان عام تھے ۔ تین چار نسلیں ایک ہی گھر میں رہتی تھیں جب بھی کوئی چھوٹا موٹا جھگڑا ہوتا تو بزرگ ہوتے جو اسے طئے کردیتے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت خاندانی نظام مضبوط تھا ۔ عالمگیریت کے تناظر میں حالات بدل گئے ۔ مشترکہ خاندان کمزور ہوتے جارہے ہیں کیوں کہ لوگوں کو کام اور معاش کے لیے دوسری جگہوں پر جانا پڑتا ہے ۔ تعلقات کمزور ہورہے ہیں اور خاندانی تنازعات جنم لے رہے ہیں ۔ حسد ، بغض اور نفرت بڑھ رہی ہیں ۔ حالات یہاں تک خراب ہورہے ہیں کہ خاندان کے افراد اور خون کے رشتہ دار ایک دوسرے پر ہاتھ اٹھا رہے ہیں گزشتہ سال مارچ میں تیلارپور میں ایک 27 سالہ نوجوان نے اپنی ہی ماں کا قتل کردیا اور پنجہ گٹہ میں 80 سالہ ریٹائرڈ صنعت کار کو اس کے رشتہ دار نوجوان نے چاقو سے متعدد بار حملہ کرتے ہوئے قتل کردیا تھا ۔ لوگ بغیر کسی ظاہری وجہ کے ناراض ہوتے جارہے ہیں ایسے کئی واقعات ہیں جہاں معمولی جھگڑوں کی وجہ سے جانیں بھی لی جاتی ہیں ۔ اس کے علاوہ معمولی باتوں پر بھی قتل کے واقعات پیش آرہے ہیں ۔ پارکنگ کا مسئلہ ، شادی کی تقریب میں رقص کرتے وقت رکاوٹ پیدا کرنا ، سوشیل میڈیا پر گالی گلوج کرنا ، وغیرہ شامل ہیں جو قتل کا باعث بن رہے ہیں ۔ گزشتہ سال اپریل میں حیدرآباد ، سائبر آباد اور رچہ کنڈہ کمشنریٹس میں چھ دنوں کے اندر سات افراد کا قتل کیا گیا تھا ۔ پولیس کی جانچ میں پتہ چلا کہ قتل کی وجہ معمولی تھی ۔ گانجہ اور شراب کے نشے میں دھت نوجوان زیادہ تر اسی طرح کے حملوں کا سہارا لیتے ہیں ۔ حالیہ دنوں میں نشہ کی حالت میں نوجوانوں کی ہنگامہ آرائی اور ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا جو تشویش کا باعث ہے ۔۔
معاشرہ غیر ازدواجی تعلقات کو منظور نہیں کرتا ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایسی چیزیں اچھی نہیں ہیں ۔ لیکن بہت سے لوگ اپنی منت توڑ دیتے ہیں ۔ دوسری طرف ایسے دردرندے زیادہ ہیں جو خواتین کو جب بھی موقع ملتا ہے دھوکہ دیتے ہیں ۔ آج کے دور میں بہت سے نوجوان شادی کے بغیر غیر اخلاقی تعلقات استوار کررہے ہیں ۔ بہت سے معاملات میں حالات جرائم کی طرف لے جاتے ہیں کیوں کہ وہ نتائج کے بارے میں نہیں سوچتے ۔ کریم نگر ضلع کے رامدوگو میں گزشتہ ماہ ایک بوڑھے نے اپنے بیٹے کو ہی قتل کردیا تھا کیوں کہ اس کی بہو کے ساتھ اس کے ناجائز تعلقات تھے ۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ غیر اخلاقی تعلقات سے پیدا ہونے والا حسد بھی قتل کی ایک وجہ ہے ۔۔ ش
