خانگی اسکولس میں فیس وصولی کے کاونٹرس ، سرکاری احکامات کی کھلی خلاف ورزی

   

اولیائے طلبہ کی شدید برہمی ، خانگی اسکولس کے اساتذہ تنخواہوں سے محروم ، احتجاج شروع کرنے کی حکمت عملی
حیدرآباد۔5جون(سیاست نیوز) شہر کے اسکولوں میں نصابی کتب کی فروخت اور فیس کی وصولی کیلئے والدین اور سرپرستوں پر دباؤ کے سبب جو صورتحال پیدا ہورہی ہے اس کے سبب اسکول انتظامیہ پر والدین اور سرپرستوں کی شدید برہمی پائے جانے لگی ہے ۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں اسکولوں نے اپنے دفاتر میں کام کاج کاآغاز کرتے ہوئے فیس کی وصولی اور یونیفارم اور نصابی کتب کی فروخت اور فیس کی وصولی کے مراکز کھول دیئے ہیں جو کہ سرکاری احکاما ت کی خلاف ورزی کے مترادف ہے ۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے مطابق اسکولوں کی کشادگی کے سلسلہ میں تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے لیکن اس کے باوجودخانگی اسکولوں کی جانب سے جاری ان سرگرمیوں پر والدین شدید برہمی کا اظہار کرنے لگے ہیں ۔ حکومت تلنگانہ نے خانگی اسکولوں کی جانب سے فیس میں اضافہ اور فیس کی وصولی پر اسکول کے خلاف 100 نمبر پر شکایت کی گنجائش فراہم کی ہے لیکن اس کے باوجود اسکولوں کی جانب سے انجام دی جانے والی ان سرگرمیوں کے سلسلہ میں کہا جار ہاہے کہ خانگی اسکول انتظامیہ سال گذشتہ کے دوران ہونے والے نقصانات کی پابجائی کیلئے یہ کوشش کر رہے ہیں جبکہ خانگی اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے بیشتر اساتذہ کو نصف تنخواہیں ادا کی گئی ہیں یا پھر تنخواہ ہی نہیں دی گئی ہے اور اسی طرح غیر تدریسی عملہ کی بھی صورتحال ہے جو کہ شہر حیدرآباد میں تعلیم کی تجارت کی بد ترین مثال ثابت ہورہی ہے۔ خانگی اسکول انتظامیہ کی جانب سے جب اساتذہ کو تنخواہیں ہی ادا نہیں کی گئی ہیں تو ان اسکولوں کو نقصان کاکوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ خانگی اسکول میں خدمات انجام دینے والے ایک ٹیچر نے بتایا کہ انہیں لاک ڈاؤن کے بعد نصف تنخواہ ادا کی گئی جبکہ ماہ اپریل اور مئی کی تنخواہ کئی اسکولوں میں ادا نہیں کی جاتی کیونکہ ان مہینوں کے دوران گرمائی تعطیلات ہوا کرتی ہیں لیکن اسکولوں کی جانب سے مکمل سال کی فیس طلبہ سے وصول کی جاتی ہے ۔پہلی مرتبہ جب خانگی اسکولوں کو ان دو ماہ کی فیس کی وصولی میں مشکلات آئی ہیں تو وہ بھی برداشت کرنے کے بجائے اولیائے طلبہ اور سرپرستوں پر بوجھ عائد کیا جانے لگا ہے۔ شہر حیدرآباد میں کئی اسکولوں کی جانب سے سال گذشتہ کی بقایا فیس کو معاف کرنے کا بھی اعلان کیا جاچکا ہے اور شہر حیدرآباد کے ایک سرکردہ اسکول میں مفت داخلوں کی فراہمی کا بھی اعلان کیا جاچکا ہے لیکن اس کے باوجود شہر حیدرآباد میں موجود کئی اسکولوں میں یونیفارم اور کتب کی تجارت کا عمل شروع کردیا گیا ہے جو کہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ خانگی اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کے ساتھ اب اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کی جانب سے بھی اسکول انتظامیہ کے خلاف ماحول تیار ہونے لگا ہے جو کہ ان اسکولوں کے حق میں نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے جو سال گذشہ کے آخری تین ماہ کی فیس‘ یونیفارم اور درسی کتب کی فروخت کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔