خانگی اسکولس کے 70 کرسپانڈنٹس کورونا سے فوت

   

پسماندگان کو 5 لاکھ روپئے ایکس گریشیا کا مطالبہ
حیدرآباد۔ کورونا وباء سے بتایا جاتا ہے کہ خانگی بجٹ اسکولوں کے تقریباً 70 کرسپانڈنٹس کی موت واقع ہوئی ہے۔ پہلی اور دوسری لہر کے دوران کورونا سے یہ اموات واقع ہوئی ہیں۔ تلنگانہ کی مسلمہ اسکول مینجمنٹ اسوسی ایشن نے ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ متوفی کرسپانڈنٹس کے پسماندگان کو کم از کم 5 لاکھ روپئے ایکس گریشیا دیا جائے۔ اسوسی ایشن کے ارکان کا کہنا ہے کہ اسکولوں کے انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کی مدد کی گئی تاہم حکومت کو بھی چاہیئے کہ وہ ہر خاندان کو 5 لاکھ روپئے ایکس گریشیا ادا کرے۔ اسوسی ایشن نے ہر خاندان کو 50 ہزار روپئے کی امداد فراہم کی ہے۔ اسوسی ایشن کے قائدین شیکھر راؤ اور دوسروں کے مطابق کورونا کی پہلی اور دوسری لہر کے دوران خانگی اسکولوں کے کرسپانڈنٹس اور ٹیچرس بری طرح شکار ہوئے ہیں۔ اسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ متوفی کرسپانڈنٹس کے خاندان معاشی بحران کا شکار ہیں اور وہ گھریلو اخراجات کے علاوہ بچوں کی تعلیمی فیس کی ادائیگی سے بھی محروم ہیں۔ تلنگانہ میں تقریباً 10 ہزار خانگی بجٹ اسکولس کام کرتے ہیں ان میں سے 90 فیصد اسکولوں میں تعلیمی سال 2020-21 کے دوران طلبہ کی فیس ادا نہیں کی گئی۔ 2019-20 میں صرف 40 فیصد طلبہ نے فیس ادا کی تھی۔ اسوسی ایشن نے ہیلپ لائن کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پریشان حال خاندانوں کی مدد کی جاسکے۔