خانگی اسکولوں کی فیس میں 30 تا 40 فیصد اضافہ

   

Ferty9 Clinic

اولیائے طلبہ کی محکمہ تعلیم سے مسلسل شکایات، مسئلہ پر کمیٹی کی تشکیل زیر غور

حیدرآباد۔9اگسٹ(سیا ست نیوز) ریاست کے خانگی اسکولوں نے فیس میں مجموعی اعتبار سے 30 تا40 فیصد اضافہ کیا ہے اور خانگی اسکولوں کی جانب سے فیس میں کئے گئے اضافہ کو درست قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ تیزی سے بڑھ رہی مہنگائی اور اضافی اخراجات کے سبب وہ فیس میں اضافہ کے لئے مجبور ہیں۔ محکمہ تعلیم کو موصول ہونے والی شکایات میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ شہری علاقوں میں چلائے جارہے اسکولوں میں گذشتہ سال کے اعتبار سے فیس کا جائزہ لیا جائے تو 30 تا40 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور اولیائے طلبہ و سرپرستوں کی جانب سے موصولہ شکایات کا محکمہ تعلیم کے عہدیدار جائزہ لے رہے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ شہر حیدرآباد میں موجود کارپوریٹ اور بجٹ اسکولوں میں بھی فیس میں اضافہ کی شکایات موصول ہوئی ہیں اور ان شکایات کا جائزہ لینے کے لئے کمیٹی کی تشکیل پر غور کیا جا رہا ہے اور کہا جار ہاہے کہ آئندہ ایک ہفتہ میں اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ کرتے ہوئے حکومت کو کمیٹی کی منظوری کیلئے تجاویز روانہ کی جائیں گی کیونکہ متعدد مرتبہ اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کی جانب سے کی جانے والی شکایات کے باوجودعدم کاروائی کی صورت میں شکایت کنندہ عدالت سے رجوع ہونے کے سلسلہ میں فیصلہ کرسکتا ہے اسی لئے محکمہ تعلیم نے پر فیس میں اضافہ کرنے والے تعلیمی ادارو ںاور انتظامیہ کے خلاف فوری کاروائی کا فیصلہ کیا ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ خانگی اسکولوں کے ذمہ داروںکی جانب سے اسکول فیس میں بے تحاشہ اضافہ کے سلسلہ میں جواز پیش کرتے ہوئے یہ دعوی کیا جا رہاہے کہ ان کی کرایہ کی عمارتو ںکے سبب انہیں بھاری کرایہ ادا کرنا پڑ رہا ہے جس کی وجہ سے وہ فیس میں اضافہ کے لئے مجبور ہیں اسی طرح اساتذہ کو دئیے جانے والے مشاہرہ میں سالانہ اضافہ کے باعث بھی اسکولوں کے اخراجات میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے جو کہ اضافی مالی بوجھ ہے جس کی فیس کے ذریعہ پابجائی کا اسکول انتظامیہ کو اختیار حاصل ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے فیس کو باقاعدہ بنانے کے لئے کمیٹی کی تشکیل کا متعدد مرتبہ تیقن دیا گیا لیکن اس پر عدم عمل آوری کے متعلق اپوزیشن کی جانب سے الزام عائد کیا جا رہاہے کہ ریاستی حکومت اپنی پارٹی میں موجود قائدین کے مفادات کے تحفظ کے لئے فیس کو باقاعدہ بنانے کے اقدامات سے گریز کر رہی ہے لیکن اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کی جانب سے نئے تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی مسلسل شکایات کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جو کہ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کو پریشان کئے ہوئے ہے۔