خانگی اور کارپوریٹ ہاسپٹلس کی کوروناعلاج کے سلسلہ میں من مانی

   

حکومت کی مقررہ شرحیں نظر انداز،لاکھوں روپئے کی وصولی، غریبوں کیلئے داخلہ بند
حیدرآباد۔ حکومت کی جانب سے خانگی اور کارپوریٹ ہاسپٹلس کو کورونا ٹسٹ اور علاج کی اجازت دینے کے بعد خانگی ہاسپٹلس کی من مانی میں اضافہ ہوچکا ہے اور حکومت ان پر قابو پانے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ خانگی ہاسپٹلس ٹسٹ اور علاج کے نام پر حکومت کی جانب سے مقرر کردہ چارجس کی پرواہ کئے بغیر لاکھوں روپئے وصول کررہے ہیں جو مریضوں اور ان کے افراد خاندان کیلئے زبردست بوجھ بن چکا ہے۔ کارپوریٹ ہاسپٹلس نے ٹسٹ اور علاج کیلئے پیاکیج تیار کرلئے ہیں جس کے تحت مریضوں سے لاکھوں روپئے وصول کئے جارہے ہیں۔ حکومت نے کورونا کے کیسس میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے کارپوریٹ ہاسپٹلس کو ٹسٹ اور علاج کی اجازت دے دی تھی لیکن اس صورتحال کا ہاسپٹلس کے حکام ناجائز فائدہ اٹھارہے ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ کارپوریٹ ہاسپٹلس میں غریب مریضوں کیلئے عملاً نو انٹری ہے کیونکہ غریب مریضوں سے ہاسپٹلس کو کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا۔ وزیر صحت ای راجندر نے کارپوریٹ ہاسپٹلس کی جانب سے چارجس میں اضافہ کے مطالبہ کو مسترد کردیا لیکن ہاسپٹلس کی من مانی جاری ہے اور حکومت اور محکمہ صحت کے عہدیدار تماش بین بنے ہوئے ہیں۔ سرکاری ہاسپٹلس میں بستروں کی کمی کے سبب عوام خانگی اور کارپوریٹ ہاسپٹلس سے رجوع ہونے پر مجبور ہیں لیکن وہاں ان کا استحصال کیا جارہا ہے۔ مریض کے ہاسپٹل پہنچتے ہی اسے مختلف پیاکیجس بتائے جارہے ہیں اور علاج سے زیادہ ہاسپٹل حکام کو پیاکیج کی منظوری کی فکر ہے۔ ضروری مراحل کی تکمیل میں کافی وقت ضائع کیا جارہا ہے اور مریض اگر غریب و متوسط خاندان سے ہو تو لمحہ آخر میں اسے بستروں کی کمی کا بہانہ کرتے ہوئے دیگر ہاسپٹلس سے رجوع ہونے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کورونا کی علامتوں کا شکار دولت مند افراد ٹیلی فون پر اپنے تعلقات اور اثر و رسوخ کے ذریعہ پہلے ہی کارپوریٹ ہاسپٹلس کے بستروں اور کمروں کی بکنگ کررہے ہیں۔ ہوم کورنٹائن کے مریضوں سے خانگی ہاسپٹلس میں 20 ہزار روپئے وصول کئے جارہے ہیں جس کے تحت پی پی ای کٹ،
N95
ماسک، آکسیجن اور روز ڈاکٹر سے بات کرنے کی سہولت جیسی خدمات شامل ہیں۔ کورونا پازیٹیو آنے کے بعد ہاسپٹل میں شریک ہونے پر 8 تا 12 لاکھ روپئے تک علاج کے نام پر وصول کئے جارہے ہیں۔ حکومت نے خانگی اداروں میں کورونا ٹسٹ کیلئے 2200روپئے چارجس مقرر کئے ہیں۔ وینٹی لیٹر کے بغیر علاج کی صورت میں 7500 اور وینٹی لیٹر کے ساتھ علاج پر روزانہ 9ہزار روپئے چارجس مقرر کئے گئے لیکن یہ چارجس صرف کاغذی حد تک محدود ہوچکے ہیں اور حکومت کو کارپوریٹ ہاسپٹلس کی من مانی روکنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔