خانگی بجٹ اسکولس کا آن لائن تعلیم ہی جاری رکھنے پر غور

   

حکومت کے رہنما خطوط پر عمل بیشتر اسکولس کیلئے ممکن نہیں ۔ اضافی مالی بوجھ کے بھی اندیشے
حیدرآباد۔ حکومت کی جانب سے یکم فروری سے نویں اور دسویں جماعت کے باضابطہ کلاسس کے آغاز کے فیصلہ کے باوجود بیشتر خانگی اسکولوں کی جانب سے اسکولوں کی کشادگی کے بجائے موجودہ طریقہ اور آن لائن تعلیم پر اکتفاء پر غور کیا جا رہاہے کیونکہ حکومت نے اسکولوں کی کشادگی کیلئے جو رہنمایانہ خطوط جاری کئے ہیں ان پر عمل بیشتر اسکولوں کیلئے ممکن نہیں ہے کیونکہ اگر کلاسس میں 6 فیٹ کے فاصلہ سے طلبہ کی نشستوں کا انتظام کیا جاتا ہے تو ایک کلاس کے طلبہ کو 3 تا 4 رومس میں نشستوں کا انتظام کرنا پڑے گا اور ان تمام کلاسوں کیلئے علحدہ اساتذہ کا انتظام کرنا پڑے گاجو خانگی اسکولوں پر مزید مالی مشکلات عائد کرنے کے مترادف ہوگا اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے ڈی ایم ایچ او کی نگرانی میں صحت کی جانچ کے علاوہ ڈی ایم ایچ او کو طبی انتظامات کی منظوری کا مجاز قرار دینے کی بھی اسکولوں کی جانب سے مخالفت کی جا رہی ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ محکمہ تعلیم کو یہ ذمہ داری دینے کی بجائے مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں کو ان کیلئے مجاز قرار دیا جائے تو حالات بہتر ہونے کے بجائے ابتر ہوتے چلے جائیں گے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ رہنمایانہ خطوط میں طلبہ کی حاضری کے لزوم کو برقرار نہ رکھنے کے بھی کئی منفی نتائج برآمد ہونے کا خدشہ اور ان کے ساتھ اسکولوں کی کشادگی کو یقینی بنایا جانا بجٹ خانگی اسکولوں کیلئے ممکن نہیں اسی لئے اسکولوں کی کشادگی کے معاملہ میں بجٹ اسکولوں کے ذمہ دار تذبذب کا شکار ہیں ۔ اگر ان خطوط میں لاپرواہی ہوتی ہے تو اس کے نتائج سنگین برآمد ہوسکتے ہیں اور اسکولو ںکی کشادگی کے سبب انتظامیہ پر زائد مالی بوجھ عائد ہونے کے امکاناہیں۔ اسکولوں کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ حکومت نے جو رہنمایانہ خطوط جاری کئے ہیں ان پر عمل صرف کارپوریٹ طرز اسکولوں کیلئے ممکن ہے کیونکہ ان میں موجود تدریسی عملہ کے ذریعہ سلسلہ تعلیم جاری رکھ سکتے ہیں اور ان کی جانب سے ڈیجیٹل تعلیم کا جو میکانزم اختیار کیا گیا ہے وہ باضابطہ کلاسس کے ساتھ جاری رہ سکتا ہے لیکن بجٹ اور متوسط اسکولوں کے لئے ڈیجیٹل اور باضابطہ کلاس کا بیک وقت جاری رکھنا مشکل ترین ہوگا ۔