ایمرجنسی مریضوں کے پھیپھڑوں کا ایکسرے، علیحدہ کمروں میں منتقلی، حکومت کی اجازت سے قبل کارپوریٹ دواخانوں کی من مانی
حیدرآباد۔31مئی(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کے کارپوریٹ دواخانوںمیں کورونا وائرس سے احتیاط کے لئے استعمال کی جانے والی پی پی ای کٹس کے اخراجات مریضوں سے وصول کئے جانے لگے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ سابق میں جس طرح مریض کی نگہداشت اور تشخیص کے دوران استعمال کئے جانے والے دستانوں کی قیمت مریض کے بلس میں شامل کی جاتی تھی اب پی پی ای کٹس کی قیمت بھی بلس میں شامل کی جانے لگی ہے ۔ شہر حیدرآباد کے خانگی کارپوریٹ دواخانوں میں کسی بھی مرض سے ہنگامی حالات میں شریک ہونے والوں کے پھیپڑوں کا ایکسرے لیا جا رہا ہے اور اگر پھیپڑے کسی بھی وجہ سے کچھ حد تک متاثر ہیں تو اس مریض کو کورونا وائرس کے متاثر مریض کی فہرست میں شمار کرتے ہوئے اسے علحدہ طبی نگہداشت والے کمرے میں شریک کیا جا رہاہے اور اس مریض کی تشخیص یا رابطہ میں آنے والے ڈاکٹرس اور طبی عملہ کی جانب سے استعمال کئے جانے والے پی پی ای کٹس کی قیمت مریض کے بل میں شامل کی جا رہی ہے ۔ کارپوریٹ دواخانو ںمیں جو پی پی ای کٹس استعمال کئے جا رہے ہیںان کی قیمت 1500سے1600 کے درمیان بتائی جا رہی ہے جو کہ مریضوں کے لئے نئی مصیبت ثابت ہورہا ہے۔ ماہر اطباء کا کہنا ہے کہ ہنگامی حالات میں دواخانوں سے رجوع ہونے والے مریضوں کے پھیپڑوں کے معائنہ کے دوران اگر پھیپڑوں پر کوئی سفید نشان وغیرہ نظر آتے ہیں تو انہیں کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں میں شمار کیا جانا چاہئے اسی لئے کارپوریٹ دواخانو ںمیں ایسا کیا جا رہا ہے۔ جبکہ پھیپڑوں پر نظر آنے والے نشانات کا قطعی یہ مطلب نہیں ہے کہ مریض کورونا وائرس سے متاثر ہے لیکن کورونا کے شبہات کے تحت علاج کے آغاز سے قبل کورونا کا معائنہ کروایا جانا لازمی ہے اور یہ آئی سی ایم آر کی ہدایات کے مطابق کیا جا رہاہے۔ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ کارپوریٹ دواخانوں میں کورونا وائرس کے مشتبہ مریض کا معائنہ کے بعد علاج کیا جا رہا ہے لیکن جب معائنہ میں مریض مصدقہ کورونا وائر س کا مریض پایاجاتا ہے تو اس کے بعد اس کے علاج کا طریقہ کار بالکل علحدہ ہے۔ قلب پر حملہ ‘ گردوں کے عارضہ ‘ تنفس کے مسائل کے علاوہ اچانک بلڈ پریشر میں ہونے والے اضافہ کے سبب جو لوگ ہنگامی خدمات اور ابتدائی طبی خدمات کے حصول کے لئے کارپوریٹ دواخانوں سے رجوع ہورہے ہیں ان کو کئی ایک مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور صورتحال پر قابو پانے کے سلسلہ میں سرکاری طور پر کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں بلکہ دواخانہ کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ ریاستی حکومت یا مرکزی حکومت کی جانب سے خانگی اور کارپوریٹ دواخانوں کے لئے رہنمایانہ خطوط جاری کرنے سے قبل ہی کارپوریٹ دواخانوں میں کورونا متاثرین کا علاج کرنے کی بھی تیاریاں کرلی گئی ہیں لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے اجازت حاصل نہ ہونے کی صورت میں مکمل احتیاط کے ساتھ دیگر امراض کا علاج کیا جا رہاہے اور احتیاط کے پیش نظر ہی پی پی ای کٹس استعمال کئے جا رہے ہیں۔
