خانگی دواخانوں کی لوٹ کھسوٹ کے خلاف سخت کارروائی

   

ضلع نظام آباد میں ٹاسک فورس کی جانب سے تیز رفتار تحقیقات کا آغاز، متوفی افراد کے خاندان سے ملاقات

نظام آباد :حالیہ دنوں میں تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کرونا متاثرین سے علاج کے دوران لوٹ کھسوٹ کرنے والے خانگی دواخانوں سے مریضوں کے رقم واپس دلانے کیلئے کہا تھا جس کے بعد حکومت نے حرکت میں آتے ہوئے لوٹ کھسوٹ کرنے والے خانگی دواخانوں کے خلاف تیز رفتارتحقیقات کا آغازکیا ہے جلد ہی سخت کارروائی کئے جانے کا امکان ہے ۔ واضح رہے کہ چار دن قبل سید قیصرسابق کوآپشن ممبر نظام آباد نے ضلع کلکٹر سی نارائن ریڈی اور ڈی ایم اینڈ ایچ او بالا ناگیندر ا سے میمورنڈم دیتے ہوئے لوٹ مچانے والے خانگی دواخانوں کیخلاف جلداز جلد سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ضلع نظام آباد میں کورونا سے متاثر پائے جانے والے افراد کے علاج کیلئے جملہ 56 دواخانوں کو اجازت دی گئی تھی ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ٹاسک فورس کی تنقیح کے بعدتقریباً10تا 15ہاسپٹلس کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا لیکن کسی دواخانہ کیخلاف سخت کارروائی ابھی تک نہیں کی گئی ہے تلنگانہ حکومت کی جانب سے ریاست کے جملہ 100 سے زائد خانگی دواخانوں کے خلاف کورونا مریضوں سے من مانی فیسوں کی وصولی پر نوٹس جاری کی گئی ۔ ضلع نظام آباد میں خانگی دواخانوں میں زائد فیس کی وصولی کی اطلاع پر جن دواخانوں کو نوٹس دیا گیا تھا ۔ان دواخانوں میں علاج کرانے والے مریضوں کے افراد خاندان سے ٹاسک فورس ٹیم کی جانب سے ربط قائم کرتے ہوئے انکوائری کی جارہی ہے ۔ آج ٹاسک فورس ٹیم جس میں نارتھ زون ایم آر اوو دیگر 3 عہدیدار موجود تھے ۔ شہر نظام آباد کے سی ایم روڈ آٹو نگر پہنچ کرمتوفی خاتون کے افراد محمد اعظم الدین ، محمد امیر الدین جرنلسٹ ، محمد اظہر الدین و دیگر سے علاج کی تمام جانکاری حاصل کی ۔ اس موقع پر سید قیصر سابق کوآپشن ممبر بھی موجود تھے ۔ واضح رہے کہ ضلع نظام آباد کو منظورہ کوویڈ سنٹرس 56 خانگی دواخانوں میں کورونا متاثرین کے علاج کیلئے مریضوں سے 5 تا 10 تا 15لاکھ روپئے وصو ل کئے گئے ۔ جس سے مریضوں کے خاندان کو بے حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مریضوں کے رشتہ دار فیس ادائیگی کیلئے زیور ، پلاٹس اور دوسری جائیداد فروخت کرنے پر مجبور تھے۔ ٹاسک فورس انکوائری میں خاطی پائے جانے پرکیا دواخانوں کا لائسنس منسوخ کیا جائیگا۔ جب سے کرونا وائرس پھوٹ پڑا ہے اس وقت سے آج تک خانگی دواخانہ لوٹ رہے ہیں لیکن ڈی ایم اینڈ ایچ او نے ایک بھی کریمنل کیس بک نہیں کیا اور نہ ہی کسی دواخانہ کا لائسنس منسوخ کیا ہے جس سے اس محکمہ کی کارکردگی کا پتہ چلتا ہے ۔ برائے نام نوٹس جاری کرنے سے کچھ ہونے والا نہیں ہے ۔ خانگی دواخانوں میں لوٹ مچائی جارہی ہے جس پر روک نہیں لگنے کی صورت میں کرونا متاثرین معاشی بحران سے دوچار ہوجائیں گے ۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے خانگی دواخانہ کو کوویڈ مریض کیلئے فی مریض کیلئے 5تا 7 ہزار روپئے چارجس لینے کا مشورہ دیاہے اس کے بجائے خانگی دواخانہ کے انتظامیہ لاکھوں روپئے وصول کررہے ہیں ۔ خانگی دواخانوں کئی دنوں سے مقررہ قیمت سے زائد بلکہ لاکھوں روپئے وصول کرنے کے باوجود کیوں کوئی کریمنل کیس درج نہیں کیا گیا ۔متاثرین کا مطالبہ ہے کہ تحقیقات کے بعدخاطی ڈاکٹرس کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے مثال قائم کی جائے تاکہ آئندہ ایسے لالچی واقعات کا دوبارہ اعادہ نہ ہوسکے۔