31 اگست تک مہلت کے باوجود قرض نادہندگان کو ہراسانی
حیدرآباد۔26مئی (سیاست نیوز) ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے موروٹوریم یعنی قرض ادائیگی کی مدت میں تین ماہ کی توسیع کے بعد اب 31 اگسٹ تک ماہانہ اقساط کی ادائیگی کی ضرورت نہیں ہے لیکن خانگی فینانس اداروں کی جانب سے قرض نادہندگان کو قرضہ ٔ جات کی ادائیگی کے سلسلہ میں دباؤ ڈالا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ اگر ان کی جانب سے قرض ادا نہیں کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں ان کے CIBIL پر منفی اثرات ہوں گے جو کے مستقبل میں قرض کے حصول میں دشواریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔مرکزی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے ساتھ ہی تمام قرضہ جات کی اقساط کی ادئیگی کو تین ماہ تک معطل کرنے کا اعلان کیا تھا اور مئی میں یہ مدت ختم ہونے جا رہی تھی لیکن ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے اس میں مزید تین ماہ کی توسیع کے ساتھ قرضہ جات کی اقساط کی ادائیگی کے لئے مزید تین ماہ کی مہلت کی فراہمی کا اعلان کیا گیا ہے جو کہ قرض حاصل کرنے والوں کے لئے بڑی راحت ہے لیکن ریزرو بینک آف انڈیا اور محکمہ فینانس کو چاہئے کہ وہ اس مدت میں قرض کی ادائیگی میں ناکام افراد کے CIBIL کو نشانہ نہ بنائیں بلکہ 6ماہ کا جس طرح سے موروٹوریم دیا گیا ہے اسی طرح ان 6ماہ کے دوران نہ کی جانے والی ادائیگیوں کے اثرات کو CIBIL پر نمایاں نہ کیا جائے کیونکہ ایسا کرنے سے موروٹوریم کا مقصد باقی نہیں رہے گا اور شہریوں کو آربی آئی کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولتوں سے استفادہ سے ہونے والے فائدہ کے بجائے انہیں طویل مدت میں نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔آربی آئی کی جانب سے تین ماہ کی توسیع کے اعلان کے منفی اثرات فینانس اداروں پر مرتب ہوسکتے ہیں۔