خانگی میڈیکل کالجس کو کورونا علاج کیلئے حکومت کے احکام کا انتظار

   

اخراجات حکومت برداشت کرے، خانگی کالجس کی شرط، ضروری آلات کی سربراہی سے حکومت متفق
حیدرآباد۔ تلنگانہ حکومت نے خانگی میڈیکل کالجس کو کورونا کے علاج کے سلسلہ میں اجازت تو دے دی ہے لیکن کالجس کو حکومت کی جانب سے گائیڈ لائینس کی اجرائی کا انتظار ہے۔ حکومت نے 21 خانگی میڈیکل کالجس میں کورونا کے علاج کی اجازت دی ہے اور ان کے انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے درکار سہولتوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ حکومت نے خانگی میڈیکل کالجس کو بعض سہولتوں کی فراہمی سے اتفاق کیا تاہم کالجس کے حکام علاج کے اخراجات حکومت کی جانب سے برداشت کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ بستر اور طبی اسٹاف کی فراہمی کالج کی جانب سے ہوگی۔ اطلاعات کے مطابق 21 میڈیکل کالجس میں سے شہر کے مضافات میں واقع چند کالجس خانگی کارپوریٹ ہاسپٹلس سے مربوط ہیں اور وہاں کورونا کے مریضوں کے داخلوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ ہاسپٹلس کی جانب سے مریضوں سے راست طور پر اخراجات وصول کئے جارہے ہیں جبکہ حکومت نے پی پی ای کٹس ، ماسک، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کرنے کا تیقن دیا۔ 2 میڈیکل کالجس کے علاوہ دیگر میڈیکل کالجس کو اخراجات کی پابجائی کے سلسلہ میں حکومت کے احکامات کا انتظار ہے۔ حکومت نے بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا تیقن دیا۔ لیکن کالجس کو اخراجات کی یکسوئی کے سلسلہ میں فکر لاحق ہے۔ کالجس کی جانب سے ہر مریض پر 16000 روپئے کے اخراجات کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ کالجس نے تقریباً 10000 بستر فراہم کرنے سے اتفاق کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت خانگی کالجس کو علاج کے اخراجات کی ادائیگی کیلئے تیار نہیں ہے۔ ان حالات میں خانگی میڈیکل کالجس میں کورونا کے علاج کے آغاز میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ان کالجس میں صرف ایسے مریضوں کو شریک کیا جائے گا جو کورونا پازیٹیو تو ہیں لیکن ان میں کوئی علامتیں نہیں پائی گئیں جبکہ سیریس مریضوں کو گاندھی ہاسپٹل یا کسی اور گورنمنٹ ہاسپٹل کو روانہ کیا جائے گا۔ حکومت نے خانگی میڈیکل کالجس کو 3 زمروں میں منقسم کیا ہے اور یہ شہر سے کالجس کے فاصلے کی بنیاد پر رہے گا۔ کورونا کے مریض ان کالجس کو راست طور پر علاج کیلئے رجوع نہیں ہوسکتے بلکہ انہیں ڈسٹرکٹ میڈیکل آفیسر کے ذریعہ رجوع ہونا پڑیگا۔