خانگی کالجس کا ایم بی بی ایس کے لیے 5 سال کی فیس وصول کرنا غیر قانونی ہے : ہائی کورٹ

   

حیدرآباد ۔ 20 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : خانگی میڈیکل کالجس کو ایم بی بی ایس کورس کے لیے حالانکہ اس کی مدت ساڑھے چار سال ہوتی ہے ۔ طلبہ سے پانچ سال کے لیے ٹیوشن فیس وصول کرنے کی اجازت دینے والے عہدیداروں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریاست کے خانگی میڈیکل اور ڈینٹل کالجس کو ہدایت دی کہ وہ صرف کورس کی مدت کے لیے ہی ٹیوشن فیس وصول کریں ۔ اس عدالت نے تلنگانہ ایڈمیشن اینڈ فیس ریگولیٹری کمیٹی (TAFRC) کی جانب سے اس سلسلہ میں کی گئی سفارش اور ریاستی حکومت کا اس سفارش کو قبول کرتے ہوئے ایم بی بی ایس کورس کے لیے جس کی مدت ساڑھے چار سال ہوتی ہے طلبہ سے پانچ سال کے لیے ٹیوشن فیس وصول کرنے کی اسوسی ایشن ممبرس کو اجازت دینا غیر قانونی ہے ۔ عدالت نے کہا کہ ’ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ ایم بی بی ایس کورس میں داخلہ حاصل کرنے والے تمام طلبہ کا فیل ہونے کا امکان ہے اور انہیں مزید چھ ماہ کورس اسٹڈی درکار ہوگی ۔ لہذا تمام طلبہ کے لیے مقرر کی جانے والی فیس پانچ سال کے لیے ہوگی ۔ اس طرح کا گمان بے بنیاد ہے اور اس بنا پر تمام طلبہ پر پانچ سال کے لیے ٹیوشن فیس چارج نہیں کی جاسکتی کیوں کہ میڈیکل کونسل آف انڈیا کی جانب سے اس کورس کی مدت ساڑھے چار سال مقرر کی گئی ہے ‘ ۔ جسٹس ایم ایس رامچندر راؤ نے کالوجی نارائنا راؤ یونیورسٹی آف ہیلت سائنس ، ورنگل کے رویہ کی مذمت کرتے ہوئے ایک طالبہ کی جانب سے داخل کی گئی درخواست پر یہ حکم دیا ۔۔