خانگی ہاسپٹلس آکسیجن پلانٹس قائم کرنے کے موقف میں نہیں ہے

   

حکومت سے دباؤ پڑنے پر مریضوں پر بوجھ ڈالنے یا کوویڈ سے دستبردار ہوجانے پر غور
حیدرآباد ۔ 4 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : محکمہ صحت نے کورونا کی تیسری لہر کا سامنا کرنے کے لیے 100 بیڈس پر مشتمل تمام خانگی ہاسپٹلس کو 31 اگست تک لازمی طور پر سیلف جنرٹیڈ آکسیجن پلانٹس قائم کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ ان احکامات سے خانگی ہاسپٹل کا انتظامیہ سخت ناراض ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالت میں بڑے پیمانے پر فنڈز خرچ کرتے ہوئے آکسیجن پلانٹ قائم کرنے کے موقف میں وہ نہیں ہے ۔ اگر حکومت کی جانب سے دباؤ ڈالا گیا تو پلانٹ قائم کرنے کے اخراجات کا بوجھ مریضوں پر
ڈالنے کے سوا ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ۔ محکمہ صحت کے ڈائرکٹر جی سرینواس راؤ نے 24 جولائی کو احکامات جاری کرتے ہوئے ریاست کے تمام 100 بیڈس پر مشتمل خانگی ہاسپٹلس کو آکسیجن تیار کرنے والے ذاتی پلانٹس قائم کرنے کی ہدایت دی تھی ۔ ریاست میں 100 تا 500 بیڈس پر مشتمل تقریبا 500 ہاسپٹلس ہیں ۔ خانگی ہاسپٹلس میں آکسیجن پلانٹس کے قیام کے لیے محکمہ صحت کی جانب سے 9 ایجنسیوں سے تبادلہ خیال کیا ہے اور اخراجات پر مشتمل تمام تفصیلات خانگی ہاسپٹلس کو روانہ کی گئی ہیں ۔ جس کا جائزہ لینے کے بعد خانگی ہاسپٹلس کا انتظامیہ اس نتیجہ پر پہونچا ہے کہ حکومت کی دی گئی مہلت کے دوران آکسیجن پلانٹس کا قیام ممکن نہیں ہے ۔ ایک ساتھ وہ اتنی بھاری رقم خرچ کرنے کے موقف میں نہیں ہے ۔ چند ہاسپٹلس میں آکسیجن پلانٹس کے قیام کے لیے اراضی موجود نہیں ہے ۔ جب تک کورونا رہے گا اس وقت تک ہی آکسیجن پلانٹس کارآمد رہیں گے ۔ اس کے بعد ان آکسیجن پلانٹس کی اتنی ضرورت نہیں رہے گی ۔ چند خانگی ہاسپٹلس کا کہنا ہے کہ پہلے آکسیجن کے پلانٹس کے لیے بھاری اخراجات ہیں اس کے بعد اس کے مینٹیننس کے لیے سالانہ 5 لاکھ روپئے کے مصارف ہوں گے ۔ اس کی نگرانی کے لیے کم از کم تین عملہ کی ضرورت ہوگی ۔ پہلے ہی عملہ کی قلت ہے ۔ حکومت کی جانب سے خانگی ہاسپٹلس کے انتظامیہ کو اعتماد میں لیے بغیر یکطرفہ فیصلہ کیا ہے ۔ اتنے بھاری مصارف برداشت کرنے کے موقف میں نہ رہنے والے چند ہاسپٹلس نے کوویڈ کی خدمات سے دستبرداری اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔۔