خانگی ہاسپٹلس میں علاج کی شرحوں کے تعین کیلئے دو ہفتوں کی مہلت

   

23 جون تک جی او جاری کرنے ہائی کورٹ کی ہدایت، محکمہ صحت کے جواب سے غیر مطمئن
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے خانگی اور کارپوریٹ ہاسپٹلس میں علاج کی شرحوں کے تعین کیلئے حکومت کو دو ہفتے کی مہلت دی ہے ۔ محکمہ صحت کی جانب سے چار ہفتے کی مہلت طلب کی گئی تھی لیکن چیف جسٹس ہیما کوہلی نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اندرون دو ہفتے شرحوں کا تعین کرتے ہوئے جی او جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ محکمہ صحت کیلئے یہ عدالت کی جانب سے آخری مہلت ہے۔ عدالت نے کہا کہ حکومت کو ہنگامی نوعیت محسوس کرتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہئے کیونکہ خانگی دواخانوں میں عوام کا استحصال کیا جارہا ہے ۔ عدالت نے کہا کہ مہلت کے بارے میں ہر ایک دن کا شمار کیا جائے گا ۔ چیف جسٹس ہیما کوہلی اور جسٹس وجئے سین ریڈی نے سماعت کے موقع پر موجود ہیلت سکریٹری سے کہا کہ جی او کی اجرائی کیلئے دو ہفتے کا وقت دیا جاتا ہے اور ہاسپٹل کی ہر سرویس کیلئے حکومت کو چارجس کا تعین کرنا چاہئے ۔ عدالت نے ہیلت سکریٹری کے اس بیان پر سخت اعتراض کیا جس میں انہوں نے کہا کہ وہ جی او کی اجرائی کے لئے عہدیدار مجاز کو لکھیں گے ۔ عدالت نے کہا کہ ہمیں آپ کی فائل کی مومنٹ سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ 23 جون تک جی او جاری کیا جانا چاہئے ۔ ڈائرکٹر پبلک ہیلت جی سرینواس راؤ نے بتایا کہ زائد چارجس وصول کرنے والے دواخانوں سے 65 لاکھ روپئے برآمد کئے گئے ۔ عدالت نے نیشنل فارماسیوٹیکل پرائزنگ اتھاریٹی کے حلفنامہ پر ناراضگی کا اظہار کیا۔ عدالت نے پوچھا کہ اتھاریٹی نے کووڈ ۔ 19 کی دوائی کو ضروری ادویات کی قومی فہرست میں شامل کیوں نہیں کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ڈائرکٹر اتھاریٹی کو حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دی گئی۔