حکومت سے عدالت کا سوال، سرکاری ہاسپٹلس کی ابتر حالت کا تذکرہ
حیدرآباد ۔13۔ مئی(سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے کورونا ٹسٹ کے لئے خانگی ہاسپٹلس کو اجازت نہ دیئے جانے پر حیرت کا اظہار کیا اور اس سلسلہ میں حکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔ مفاد عامہ کی ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے عدالت نے کہا کہ تمام ضروری آلات سے لیز خانگی ہاسپٹلس اور خانگی لیباریٹریز کو کورونا ٹسٹ کی اجازت کیوں نہیں دی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو دستور کی دفعہ 21 کے تحت اپنی پسند کے مقام پر علاج کرانے کا اختیار حاصل ہے لیکن حکومت اس کی خلاف ورزی کر رہی ہے ۔ آخر کس بنیاد پر عوام کو اس حق سے محروم کیا جارہا ہے ۔ عدالت نے صرف گاندھی ہاسپٹل میں علاج کرانے کی شرط پر بھی سوال اٹھائے ۔ خانگی ہاسپٹل میں کورونا کے علاج اور خانگی لیباریٹریز کو ٹسٹ کی اجازت سے انکار کے خلاف ہائی کورٹ میں جئے کمار کی جانب سے مفاد عامہ کی درخواست دائر کی گئی ۔ جسٹس ایم ایس رام چندر راؤ اور جسٹس کے لکشمن پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے درخواست کی سماعت کی۔ ایڈوکیٹ جنرل بی ایس پرساد نے عدالت کو بتایا کہ خانگی ہاسپٹلس میں علاج کی اجازت کی صورت میں زائد فیس وصول کرنے کا اندیشہ رہتا ہے ۔ لہذا حکومت نے اس کی اجازت نہیں دی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بعض خانگی ہاسپٹلس کی جانب سے مریضوں کے علاج کے بجائے انہیں گاندھی ہاسپٹل منتقل کردیا گیا ۔ ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ خانگی ہاسپٹلس میں کورونا کے علاج کے اجازت کی صورت میں صورتحال کا غلط فائدہ اٹھانے کا خطرہ ہے ، لہذا عوام کو زائد بوجھ سے بچانے کیلئے حکومت نے یہ فیصلہ کیا ۔ عدالت نے کہا کہ خانگی ہاسپٹلس میں ماہر ڈاکٹرس کے علاوہ دیگر سہولتیں موجود ہیں،
ایسے میں کوئی بھی ہاسپٹل اپنا امیج کیوں خراب کرلے گا۔ عدالت نے کہا کہ عثمانیہ اور گاندھی ہاسپٹل کی ابتر صورتحال کے بارے میں کئی ویڈیو منظر عام پر آچکے ہیں۔ ججس نے کہا کہ سرکاری ہاسپٹلس میں کتنے قائدین اور اعلیٰ عہدیدار علاج کراتے ہیں، اس کی تفصیلات پیش کی جائیں۔ عدالت نے کہا کہ سرکاری ملازمین کے کتنے بچے سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ وہ بیماری کی صورت میں اکثر سرکاری دواخانہ میں ہی علاج کراتے ہیں۔ ججس نے اس مرحلہ پر ریمارک کیا کہ آپ سرکاری ہاسپٹل میں علاج کرائیے لیکن کارپوریٹ ہاسپٹلس کے ڈاکٹرس پر ہمیں بھروسہ ہے اور ہم وہی علاج کرائیں گے۔ عدالت نے کہا کہ عوام کو اپنی پسند کے مقام پر علاج سے نہیں روکا جاسکتا۔ خانگی اور سرکاری شعبہ باہم مل کر بہتر نتائج فراہم کرسکتے ہیں لیکن حکومت کیوں اس مسئلہ پر یکطرفہ رویہ اختیار کر رہی ہے۔ فریقین کی سماعت کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کردیا۔