خان یونس کے دو ہاسپٹلس میں آکسیجن کی شدید قلت

   

Ferty9 Clinic

غزہ : خان یونس کے نصر اور العمل اسپتال آکسیجن کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ برائے انسانی امور کے مطابق، گزشتہ روز العمل اسپتال کے عملہ کا ایک رکن اسپتال کے گیٹ کے قریب گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا، اسی دن ایک بوڑھی عورت اور ایک شیر خوار بچے کی العمل اسپتال میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے موت بھی ہو گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مغربی خان یونس میں نصر اور العمال اسپتال مبینہ طور پر محاصرے میں ہیں جبکہ غزہ شہر کے الشفاء اسپتال کے آس پاس کے علاقے میں بھی کشیدگی برقرار ہے۔ علاوہ ازیں، عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق خان یونس میں ایک ہفتہ قبل تباہ ہونے والے ایک مکان سے 12 افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

اسرائیلی بمباری سے بچنے ہزاروں افراد کی
خان یونس سے نقل مکانی
غزہ سٹی : غزہ کی پٹی میں لڑائی جاری ہے، محکمہ صحت کے عہدیداروں نے علاقہ میں رات بھر کے دوران 105 لوگوں کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔ اسرائیلی فضائی حملوں اور گولہ باری میں جنوبی غزہ کے شہر خان یونس کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فورسز نے جنوبی غزہ میں رفح کے بیرونی مضافات پر گولہ باری کی جہاں خان یونس پر اسرائیل کی ایک سب سے بڑی کارروائی کے آغاز کے بعد سے ہزاروں لوگ بھاگ کرپہنچے ہیں۔ جنیوا میں جمعہ کے روز ایک نیوز بریفنگ میں اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے امو ر کے رابطہ دفتر کے ترجمان جینس لائیرکی نے خان یونس میں بڑھتی ہوئی لڑائیوں اور اس کے نتیجے میں پناہ کیلئے ر فح جانیوالے لوگوں کی تعداد میں اضافہ پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ لائیرکی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ حالیہ دنوں میں ہزاروں فلسطینیوں نے جنوب میں رفح کی طرف انخلا جاری رکھا ہے جہاں پہلے ہی غزہ کی 23 ملین آبادی میں سے نصف نے پناہ لئے ہوئے ہے۔ ان میں سے بیشتر عارضی پناہ گاہوں ، خیموں یا کھلے مقامات پر رہ رہے ہیں۔