خدمات سے برطرف 1640 اسٹاف نرسس کی ایک روزہ بھوک ہڑتال

   

کانگریس قائدین کا اظہار یگانگت ، بحالی کیلئے حکومت کو 10 دن کی مہلت
حیدرآباد۔30 ۔جولائی (سیاست نیوز) کورونا کی دوسری لہر کے دوران سرکاری دواخانوں میں خدمات انجام دینے والے 1640 اسٹاف نرسس کی خدمات اچانک ختم کردی گئیں۔ کورونا کے مریضوں کا بے خوف ہوکر علاج کرنے کے باوجود حکومت کی جانب سے اچانک ملازمتوں سے برطرفی کے خلاف اسٹاف نرسس احتجاج منظم کر رہے ہیں۔ 1640 اسٹاف نرسس نے آج گاندھی بھون کے احاطہ میں ایک روزہ بھوک ہڑتال کی ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کی خدمات کو فوری واپس لیتے ہوئے مستقل بنایا جائے۔ کانگریس پارٹی اور یوتھ کانگریس کی جانب سے اسٹاف نرسس کے احتجاج کی تائید کی گئی ۔ پردیش کانگریس کمیٹی کی ورکنگ پریسیڈنٹ ڈاکٹر جے گیتا ریڈی اور یوتھ کانگریس کے صدر شیوسینا ریڈی نے ہڑتالی اسٹاف نرسس سے ملاقات کی اور ملازمتوں کی بحالی تک جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ گیتا ریڈی نے کہا کہ حکومت کو جس وقت کورونا سے نمٹنے کیلئے اسٹاف نرسس کی ضرورت تھی ، اس نے 1640 نرسس کا تقرر کیا ۔ ایسے وقت جبکہ ڈاکٹرس اور طبی عملہ کورونا مریضوں کے علاج کے بارے میں خوفزدہ تھا، اسٹاف نرسس نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر مریضوں کی خدمت کی ۔ اب جبکہ کورونا وباء مکمل ختم نہیں ہوئی ہے۔ نرسس کی خدمات سے برطرفی غیر انسانی سلوک ہے۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ میں حکومت کو چاہئے تھا کہ وہ تمام اسٹاف نرسس کی خدمات کو باقاعدہ بنایا جاتا تاکہ تیسری لہر سے نمٹنے میں مدد ملے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی انصاف دلانے تک جدوجہد جاری رکھے گی ۔ یوتھ کانگریس کے صدر شیوسینا ریڈی نے کہا کہ کے سی آر نے 2017 ء میں اعلان کیا تھا کہ پبلک سرویس کمیشن کے ذریعہ 3300 عہدوں پر تقررات کئے جائیں گے ۔ 2018 ء میں امتحانات منعقد کرتے ہوئے 6 ماہ میں 1600 جائیدادوں پر تقررات کئے گئے ۔ خانگی اور کارپوریٹ دواخانوں میں روزگار کے مواقع موجود تھے، باوجود اس کے اسٹاف نرسس نے سرکاری دواخانوں میں خدمات انجام دیں ۔ محض 22000 روپئے کی تنخواہ پر ملازمت دی گئی لیکن کورونا کی صورتحال بہتر ہوتے ہی خدمات سے علحدہ کردیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہیلت ڈپارٹمنٹ میں 50,000 مزید تقررات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹاف نرسس کی بحالی کیلئے حکومت کو 10 دن کی مہلت دی جاتی ہے جس کے بعد کانگریس پارٹی احتجاج میں شدت پیدا کرے گی۔