خرطوم گولہ باری سے لرز اٹھا

   

خرطوم : سوڈان کا دارالحکومت خرطوم فضائی حملوں اور گولہ باری میں اچانک شدت آنے سے منگل کی صبح لرز اٹھا۔ یہاں سوڈان کی فوج اپنے نیم فوجی حریفوں کو ہٹانے کی کوشش میں ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے لڑرہی ہے۔ خرطوم کے جنوب میں فضائی حملوں اور جھڑپوں اور دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی تھیں اور اس سے ملحقہ شہروں بحری اور ام درمان کے کچھ حصوں میں رات بھر شدید گولہ باری ہوتی رہی۔ فوج اور نیم فوجی گروپ سریع الحرکت فورسز کے درمیان لڑائی نے ملک کے دیگر حصوں میں بھی بدامنی کو جنم دیا ہے، خاص طور پر دارفور کے مغربی علاقہ میں، لیکن اس کا مرکز خرطوم میں ہے۔
اس جنگ نے تقریباً 200,000 لوگوں کو ہمسایہ ممالک میں پناہ لینے پر مجبور کیا ہے اور سوڈان کے اندر 700,000 سے زیادہ افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔یہ ایک ایسا انسانی بحران ہے جس سے خطے کو عدم استحکام کا خطرہ ہے۔