خصوصی عدالت میں ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کیخلاف مقدمات

   


پولیس جرم ثابت کرنے میں ناکام، عدالت میں افرادی قوت کی قلت سے کارکردگی پراثر

حیدرآباد : سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد قائم کئے جانے والے خصوصی کورٹس میں کسی ایک بھی رکن پارلیمنٹ یا رکن اسمبلی کو سزاء نہیں دی گئی کیونکہ ان کے جرم ثابت کرنے میں پولیس ناکام رہی ہے۔ریاست تلنگانہ میں اب بھی 172مقدمات جو کہ ارکان اسمبلی وپارلیمان کے خلاف ہیں عدالت میں زیر دوراں ہیں۔ آر ٹی آئی سے حاصل کی گئی تفصیلات کے مطابق 8مارچ 2018 سے 7ڈسمبر2020 کے دوران جملہ 245 مقدمات وصول ہوئے ہیں جن میں 73مقدمات کی یکسوئی کی جاچکی ہے ۔ ان 73 مقدمات میں 50 مقدمات میں ملزمین کو برأت حاصل ہوئی ہے جبکہ 19مقدمات کو خارج کردیا گیا ہے جبکہ 4مقدمات کو دیگر عدالتوں کو منتقل کرنے کے احکام جاری کئے گئے ہیں۔سپریم کورٹ نے 2017میں تمام ریاستوں کو ہدایت دی تھی کہ سابقہ و موجودہ ارکان اسمبلی و پارلیمان کے خلاف موجود مقدمات کی عاجلانہ یکسوئی کے لئے خصوصی عدالت کا قیام عمل میں لایا جائے اور ان مقدمات کی تیز رفتار یکسوئی عمل میں لانے کے اقدامات کئے جائیں جس پر تلنگانہ حکومت نے 8مارچ 2018 کو خصوصی عدالت کے قیام کے اقدامات کو یقینی بنایا جہاں پر اب تک 73مقدمات کی یکسوئی کی گئی لیکن ان میں ایک بھی ملزم کے خلاف جرم ثابت نہیں کیا گیا۔ فورم فار گوڈ گورننس کی جانب سے داخل کردہ آرٹی آئی کے جواب میں یہ تفصیلات وصول ہوئی ہیں جن کے تعلق سے فورم کے ذمہ داروں نے کہا کہ 50 سیاستدانوں کے بری ہوجانے سے پولیس کی نااہلی ثابت ہوتی ہے کیونکہ یہ پولیس کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ جرم کو ثابت کرے۔آرٹی آئی میں اس بات کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ ریاست میں جملہ 509 شکایات و مقدمات ارکان اسمبلی اور ارکان پارلیمنٹ کے خلاف درج ہیں جن پر کاروائی کی جانی باقی ہے۔ان فوجداری مقدمات میں 245 مقدمات کو خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا ہے اور خصوصی عدالت میں اب تک جملہ 73 مقدمات کی یکسوئی کی گئی ہے ۔فورم فار گوڈ گورننس کے ذمہ دارو ںنے بتایا کہ تلنگانہ میں سپریم کورٹ کے احکام کے مطابق خصوصی عدالت کا قیام عمل میں لایا جاچکا ہے لیکن اس خصوصی عدالت میں عملہ کی قلت ہے اور عدالت میں پبلک پروسیکیوٹر بھی موجود نہیں ہے اس کے علاوہ عدالت کو بہتر انداز میں کام کرنے کیلئے جو عملہ کی ضرورت ہے اس کی فراہمی بھی نہیں عمل میں لائی گئی ۔