خطرناک بس ڈیزائن پر تشویش ،میعارکو یقینی بنانے کارروائی کا مطالبہ

,

   

حادثے کا شکار بسوں میں اے آئی ایس اے کی خلاف ورزی کا انکشاف

نئی دہلی، 29 نومبر (آئی اے این ایس) قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) نے ملک بھر کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے چیف سیکریٹریزکو خط لکھ کر پبلک ٹرانسپورٹ بسوں میں پائے جانے والے ایسے ڈیزائن نقائص پر شدید تشویش ظاہرکی ہے جو مسافروں کی جان کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔ یہ کارروائی جیسلمیر۔جودھپور ہائی وے پر14 اکتوبر2025 کو پیش آنے والی سلیپر بس میں آگ لگنے کے المناک واقعہ کے بعد سامنے آئی ہے۔ سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف روڈ ٹرانسپورٹ (سی آئی آر ٹی)کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ حادثے کا شکار بس میں لازمی حفاظتی معیار اے آئی ایس 052 اور اے آئی ایس119 کی خلاف ورزیاں موجود تھیں، جن میں فائر سپریشن سسٹم کی عدم موجودگی اور غلط طور پر تیار کیے گئے اندرونی حصے شامل ہیں۔ این ایچ آر سی کے مطابق، شکایت کنندہ نے نشاندہی کی کہ پبلک ٹرانسپورٹ بسوں کے ڈیزائن میں ایک ایسا بار بار ہونے والا اور خطرناک نقص موجود ہے جو مسافروں کی جان کو شدید خطرے میں ڈال رہا ہے۔ بعض بسوں میں ڈرائیورکی کیبن کو مسافروں کے حصے سے مکمل طور پر الگ رکھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے آگ یا ہنگامی صورتِ حال کا بروقت پتہ نہیں چل پاتا اور نہ ہی ڈرائیور تک اطلاع پہنچ پاتی ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ ایسی سنگین کوتاہیاں آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت بنیادی حقِ زندگی کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں، جب کہ بس بنانے والی کمپنیوں اور منظوری دینے والے محکموں کی غفلت بھی سامنے آتی ہے۔ کمیشن کے خط میں مزید کہا گیا ہے کہ شکایت کنندہ نے فوری مداخلت کی درخواست کی ہے تاکہ بسوں کے ڈیزائن میں حفاظتی بہتری کو لازمی قرار دیا جائے، ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے اور متاثرین و لواحقین کو مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔ این ایچ آر سی رجسٹری کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وزارتِ روڈ ٹرانسپورٹ و ہائی ویزکے سکریٹری اور سی آئی آر ٹی پونے کے ڈائریکٹر کو نوٹس جاری کرے۔ دونوں اداروں سے کہاگیا ہے کہ وہ دو ہفتے کے اندر تحقیقات مکمل کر کے ایکشن ٹیکن رپورٹ جمع کروائیں۔ کمیشن نے وزارتِ روڈ ٹرانسپورٹ و ہائی ویزکو ہدایت دی ہے کہ ملک بھر میں حفاظتی معیار پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے، غیر معیاری بسوں کو ریاستی سطح پر واپس بلایا جائے اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے عہدیداروں کے خلاف فوجداری کارروائی کی جائے۔ این ایچ آر سی نے متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے لیے مستقل معاوضے کے نظام کی بھی سفارش کی ہے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کی جا سکے۔ واضح رہے کہ اے آئی ایس 052 اور اے آئی ایس 119 وہ لازمی حفاظتی معیارات ہیں جو آٹوموٹیو ریسرچ اسوسی ایشن آف انڈیا نے سینٹرل موٹر وہیکل رولز1989 کے تحت تیارکیے ہیں اور ان کا مقصد ہندوستان میں چلنے والی بسوں کے ڈھانچے اور آگ سے متعلق حفاظتی تقاضوں کو یقینی بنانا ہے۔حالیہ دنوں میں تلگو ریاستوں تلنگانہ اور آندھراپردیش کے علاوہ ہندوستان کی کئی ریاستوں میں بس کے خطرناک حادثات ہوئے ہیں جن میں بیسوں افراد کی جان گئی ہے ۔