پولیس تحقیقات میں تاخیر سے انکشاف، ٹی روی اور سمیر گرفتار
حیدرآباد /8 اگسٹ ( سیاست نیوز ) تلنگانہ کے ضلع ظہیرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک خطرناک روڈی شیٹر محمد لئیق عرف شوٹر لئیق کا اترپردیش کے پرتاپ گڑھ میں قتل کئے جانے کا انکشاف ہوا ہے ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ لئیق جو جنوری سال 2021 میں صنعت نگر علاقہ میں پیش آئے روڈی شیٹر فیروز عرف کالا فیروز کے قتل میں ملوث ہے ۔ اس قتل کے بعد لئیق حبیب پولیس نگر سے وابستہ ایک روڈی شیٹر کا بھی قتل کرنے کا منصوبہ رکھتا تھا اور اس سلسلے میں اس نے بعض افراد سے رابطہ قائم کیا تھا ۔ فیروز کے قتل میں ملوث ہونے کے بعد وہ فرار ہوگیا تھا اور اس نے نومبر 2020 میں ظہیرآباد علاقہ میں اراضی تنازعہ میں جھڑپ کے دوران اپنے حریف گروپ پر 6 راؤنڈ فائرنگ کردیا تھا ۔ حبیب نگر روڈی شیٹر کے قتل کے منصوبہ کی اطلاع ملنے پولیس کمشنر سائبرآباد نے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی تھی اور یہ ٹیم شوٹر لئیق کا پتہ لگانے کیلئے اترپردیش پہنچ گئی تھی ۔ روڈی شیٹر کی تلاش کے دوران لئیق کا ایک قریبی ساتھی ٹی روی جو ممبئی کا انڈر ورلڈ چھوٹا راجن گینگ کا رکن بتایا جاتا ہے کو حراست میں لے لیا اور اس کی تفتیش کی۔ لئیق کی تلاش میں مصروف سائبرآباد کی ٹیم کو اس وقت زبردست جھٹکہ لگا جب روی سے دوران تحقیقات اس بات کا علم ہوا کہ اس نے روڈی شیٹر لئیق کا جاریہ سال 25 فروری کو اپنے ایک ساتھی سمیر کی مدد سے پرتاپ گڑھ سے 100 کیلو میٹر دور قومی شاہراہ پر گولی مار کر ہلاک کردیا۔ اس جرم کا ارتکاب کرنے کے باوجود روی نے اس بات کو پانچ ماہ تک پوشیدہ رکھا جبکہ لئیق کے افراد خاندان بشمول بیوی اور بھائیوں کو بھی اس کی موت کی خبر نہ تھی۔ لئیق کی تلاش میں مصروف سائبر پولیس کی ٹیم جس کی قیادت ایک انسپکٹر جو انکاؤنٹر اسپیشلسٹ بتایا جاتا ہے کررہے تھے اور روڈی شیٹر کی اتر پردیش میں سابق میں قتل ہونے پر اعلیٰ عہدیداروں نے ان کی کارکردگی کی سرزنش کی۔ شبہ کی بنیاد پر سائبر آباد کی اسپیشل آپریشن ٹیم نے حبیب نگر پولیس اسٹیشن سے وابستہ ایک روڈی شیٹر کو بھی حراست میں لے کر کڑی تفتیش کی اور لئیق کے قتل میں کوئی رول کی جانچ کی اور بعد ازاں اسے رہا کردیا۔ پولیس کی تحقیقات میں یہ معلوم ہوا ہے کہ لئیق کو اس بات کا خدشہ تھا کہ ویسٹ زون سے وابستہ ایک روڈی شیٹر قیصر کا قتل کردینے پر اس کا کوئی بھی حریف گروپ باقی نہیں رہے گا۔ سائبرآباد پولیس نے اتر پردیش سے گرفتار کئے گئے ٹی روی اور اس کے ساتھی سمیر کو شہر منتقل کرتے ہوئے انہیں صنعت نگر پولیس اسٹیشن کے حوالے کردیا اور اس سلسلہ میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔
