امریکہ اور چین سرفہرست، چندرائن مشن اور مریخ کی تحقیق میں ہندوستان کی کامیابی کا دنیا کو اعتراف
حیدرآباد ۔17 ۔ جون (سیاست نیوز) خلائی تحقیق کے شعبہ میں ہندوستان نے نمایاں پیشرفت کرتے ہوئے عالمی سطح کے خلائی تحقیق کے اداروں میں اپنی منفرد شناخت بنائی ہے۔ خلائی تحقیق کے شعبہ میں دنیا کے 10 نامور اداروں کی کامیاب پروازوں اور تحقیق کی بنیاد پر زمرہ بندی کی گئی جن میں ہندوستان کے انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (ISRO) نے تیسرا مقام حاصل کیا ہے۔ ناسا اور چین کے سی این ایس اداروں کی خلائی تحقیق پروازیں اسرو کے مقابلہ زیادہ ہیں۔ امریکہ کے نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (NASA) نے خلائی تحقیق کے معاملہ میں دنیا میں پہلا مقام حاصل کیا ہے۔ چین کے بعد ہندوستان تیسرے نمبر پر ہے جس نے چندرائن اور مریخ کی کامیاب پروازوں کے ذریعہ دنیا بھر میں تحقیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ سیٹلائیٹ ٹکنالوجی ، سائنٹفک ریسرچ اور خلاء میں نئی تحقیقات کے معاملہ میں دنیا اسرو کی صلاحیتوں کی معترف ہے۔ حکومت کی جانب سے ڈیفنس کے ساتھ ساتھ خلائی تحقیق کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے جس کے نتیجہ میں اسرو نے مستقبل میں گنگن یانگ اور سورج کی تحقیقی منصوبہ کو انجام دینے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ یوروپین اسپیس ایجنسی ، جاپان ایرو اسپیس ایکسپلوریشن ایجنسی ، اسٹیٹ اسپیس کارپوریشن ، اسپیس ایکسپلوریشن ٹکنالوجیز کارپوریشن کے علاوہ دیگر تین خلائی تحقیق کے اداروں نے سیٹلائیٹ کی پروازوں اور مختلف سیاروں کے راز جاننے کیلئے تحقیقی کام کو تیز کردیا ہے۔1/k/m/b