حیدرآباد۔4ستمبر(سیاست نیوز) خلاء سے سیارچہ زمین سے ٹکراسکتے ہیں اور اس سے بڑے حادثات رونما ہونے کا خدشہ ہے ۔ ناسا کی جانب سے خلاء سے زمین کی طرف گرنے والے سیارچوں کی سمت کی نشاندہی اور انہیں دوسری جانب موڑنے کی کوششیں کی جانے لگی ہیں اور کہا جا رہاہے کہ جاریہ سال 2019 میں GT3 سیارچے زمین سے ٹکرائیں گے جو کہ زمین پر بڑے دھماکوں کے علاوہ تباہی کا سبب بن سکتے ہیں۔ماہر سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ناسا کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیق کا مفصل جائزہ لئے جانے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ خلائی پتھر اور ایک قسم کے آتش فشاں زمین کی سمت تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور ان کے رخ کو موڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔بتایاجاتا ہے کہ ان سیارچوں کو زمین سے ٹکرانے کیلئے مزید 48 گھنٹے درکار ہیں اور بعض سائنسی ماہرین کا کہناہے کہ یہ خلائی پتھر زمین تک پہنچنے سے پہلے ریزہ ریزہ ہوجائیں گے لیکن بعض کا کہناہے کہ اگر یہ سمندر میں گرتے ہیں تو اس سے سونامی کے علاوہ زلزلوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ یہ سیارچہ تیزی سے نیچے کی سمت کوچ کررہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ان سیارچوں کو زمین یا مکمل طور پر نیچے پہنچنے کے بعد ہی ان سے ہونے والے نقصانات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
