خلاف ورزی کرنے والے مدارس کی سرکاری امداد بند ہو گی

   

بھوپال: مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے مدارس میں زیر تعلیم بچوں کو اپنے مذہبی تعلیمات کے برعکس دیگر مذاہب کی تعلیمات کو تسلیم کرنے یا عبادت میں شریک ہونے پر مجبور کرنے والے مدارس کو دی جانے والی تمام سرکاری گرانٹ روکنے کی ہدایت دی ہے ۔ وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو کی صدارت میں کل کابینہ کی میٹنگ ہوئی۔ ڈاکٹر یادو نے میٹنگ سے پہلے اپنے خطاب میں کہا کہ اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی جانب سے مدارس میں دیگر مذاہب کی تعلیم پر پابندی کے حوالے سے ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 28 (3) کے مطابق مدارس میں پڑھنے والے بچوں کو اپنے مذہب کی تعلیمات کے برعکس دوسرے مذاہب کی تعلیم حاصل کرنے یا عبادت میں شامل ہونے پر مجبور کرنے والے مدارس کو تمام سرکاری امداد روک دی جائے گی ۔ ایسے مدارس کی منظوری ختم کرنے اور دیگر مناسب قانونی کارروائیوں کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔دراصل، قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال نے کچھ عرصے سے ریاست کے کئی اضلاع میں چلنے والے مدارس میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی طرف توجہ مبذول کرائی تھی۔ کمیشن نے یہ بھی بتایا تھا کہ مدارس میں دوسرے مذاہب کے بچوں کے نام درج ہیں۔ کمیشن کی جانب سے اس معاملے کو نوٹس میں لانے اور بے ضابطگیاں سامنے آنے کے بعد ریاست کے شیوپور میں تقریباً 50 مدارس کی منظوری کو بھی حکومت نے ختم کر دیا تھا۔