شہر میں انڈے ، مچھلی اور جھینگوں کی قیمتوں میں گراوٹ
حیدرآباد۔10۔مارچ (سیاست نیوز) مشرقی وسطیٰ میں جنگی حالات اور ایران۔اسرائیل و امریکہ نے برآمدات و درآمدات پر منفی اثرات ظاہر کرنے شروع کردیئے ہیں اور ہندستانی مچھیروں بالخصوص سمندری مخلوق کی تجارت کرتے ہوئے زندگی گذارنے والوں کو متاثر کرنا شروع کردیا ہے ۔ سمندری اشیاء بالخصوص مچھلی اور جھینگے جو کہ مرغوب اشیائے تغذیہ میں شمار کئے جاتے ہیں ان کی تجارت متاثر ہونے کے نتیجہ میں ہندستان میں جھینگوں کی قیمتوں میں گرواٹ ریکارڈ کئے جانے کا امکان ہے۔ بتایاجاتاہے کہ ہندستان سے دنیا کے مختلف ممالک کو روانہ کئے جانے والے جھینگوں کی سربراہی بری طرح سے متاثر ہوچکی ہے اور اب مچھیروں کو جو یومیہ اساس پر جھینگے پکڑتے ہیں اور بعض اپنے خانگی تالابوں میں جھینگوں کی پیداوار کے ذریعہ تجارت کرتے ہیں انہیں اپنی پیداوار کو چینائی میں موجود ’’کولڈ اسٹوریج‘‘ کے لئے روانہ کرنا پڑرہا ہے کیونکہ جو جھینگے پکڑے جاچکے ہیں انہیں فوری روانہ کرنا ہوتا ہے یا پھر کولڈ اسٹوریج میں محفوظ کرنا پڑتا ہے ۔ ہندستانی بازار کے ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں ہندستانی آبی زراعت یا مچھلی‘ جھینگے اور دیگر آبی مخلوق کی پیداوار کے بعد سالانہ یک ملین میٹرک ٹن آبی مخلوق برآمد کئے جاتے ہیں اور پڑوسی تلگو ریاست آندھراپردیش سے ہی جو آبی مخلوق کی برآمدات ہوتی ہیں وہ 8لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ کی پیداوار ہے۔آبی مخلوق کے تاجرین کا کہناہے کہ اگر اس جنگ کا سلسلہ مزید چند ہفتہ جاری رہتا ہے تو ایسی صورت میں آبی زراعت کی صنعت بری طرح متاثر ہونے لگ جائے گی اور ہندستان میں جھینگے کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ ریکارڈ کی جائے گی۔بتایا جاتاہے کہ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد میں انڈے ‘ مچھلی اور جھینگے کی قیمتوں میں ابھی سے گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے لیکن اگر پیداوار کو مسلسل ’کولڈ اسٹوریج‘ روانہ کرنے کی نوبت آتی ہے تو ایسی صورت میں قیمتوں میں مزید کمی آنے کا امکان ہے۔پڑوسی ریاست آندھراپردیش کے علاوہ جنوبی ہند کی وہ ریاستیں جنہیں سمندری ساحل ملتے ہیں ان تمام ریاستوں میں مچھیروں کی بڑی تعداد اس صنعت سے جڑی ہوئی ہے اس کے علاوہ ریاست تلنگانہ میں بھی حکومت کی نگرانی میں آبی زراعت کو فروغ دینے کے لئے خانگی تالابوں کی تیاری اور جھینگے اور مچھلی کی پرورش کرتے ہوئے ان کی فروخت کرنے والوں کو سرکاری امداد فراہم کی جا رہی ہے ۔ذرائع کے مطابق ان آبی زراعت کرنے والے کسانوں (مچھیرو)کی جانب سے کی جانے والی پیداوار ریاستی سطح پر یا قومی سطح پر فروخت ہوجاتی ہے لیکن سمندر سے پکڑے جانے والے جھینگوں اور مچھلی کی خلیجی ممالک میں مانگ زیادہ ہونے کے سبب ان کی برآمدات کے اقدامات کئے جاتے ہیں جو کہ جنگی حالات کے نتیجہ میں بری طرح سے متاثر ہوچکی ہے۔آبی مخلوقات کی برآمدات متاثر ہونے کے نتیجہ میں ہونے والے نقصانات کے متعلق مرکزی حکومت کی جانب سے کوئی رپورٹ جاری نہیں کی گئی ۔3