خلیجی خطے میں مشترکہ سکیورٹی میکینزم کی ضرورت : لاوروف

   

نئی دہلی ؍ ماسکو۔15جنوری ۔(سیاست ڈاٹ کام) روس کے وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے خلیجی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ خطے کیلئے ایک مشترکہ سکیورٹی میکینزم پر غور کریں۔ لاوروف نے یہ بات نئی دہلی میں منعقدہ ایک سکیورٹی کانفرنس میں کہی۔ ہندوستانی وزارت خارجہ کے تعاون سے منعقد ہونے والے اس سالانہ ’رائے سینا ڈائیلاگ‘ میں روس کے علاوہ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف بھی شریک تھے۔ خلیجی خطے میں پائی جانے والی موجودہ کشیدگی کے تناظر میں لاوروف کے بیانات غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں۔ ایک مشترکہ سکیورٹی میکینزم کے بارے میں انہوں نے مزید کہاکہ ہم خلیجی ممالک کو یہ تجویز کرتے ہیں کہ وہ سکیورٹی کے ایک ایسے اجتماعی طریقہ کار کے بارے میں غور و خوض کریں جس کی شروعات اعتماد سازی کی تشکیل کے اقدامات اور ایک دوسرے کو فوجی مشقوں کی دعوت دینے سے کی جانی چاہیے۔ لاوروف کے یہ بیانات ایک ایسے وقت پر سامنے آ رہے ہیں جب عراق میں ایران کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت اور اس کے جواب میں ایران کی طرف سے عراق میں تعینات امریکی فورسز پر ہونے والے میزائیل حملوں نے پورے خطے کو تشویش میں ڈال دیا ہے۔ خلیجی ممالک میں اس وقت بہت زیادہ کشیدگی پائی جاتی ہے۔ اس ضمن میں خاص طور سے لاوروف کا کہنا تھاکہ جیسا کہ میں نے خلیج فارس کا ذکر کیا، ہمیں اس بارے میں گہری تشویش ہے کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ایران کے وزیرخارجہ محمد جواد ظریف بھی دہلی میں ہونے والی کانفرنس میں شریک ہوئے۔ اس سے محض ایک روز قبل برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے باضابطہ طور پر تہران حکومت پر 2015 ء میں طے پانے والے نیوکلیئرمعاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔ ایران پر اس کے سبب اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کی جا سکتی ہیں۔