خلیجی ممالک سے واپس آنے والے افراد کو حیدرآباد میں تلخ تجربہ

   

زائد فضائی کرایہ اور پھر کورنٹائن کے ہزاروں روپئے کا بوجھ، مسائل پر مبنی آڈیو پیامات وائرل
حیدرآباد ۔13۔ مئی(سیاست نیوز) خلیجی ممالک میں لاک ڈاون کے سبب پھنسے ہوئے لیبرس اور غیر مقام ہندوستانیوں کو وطن واپسی کے بعد تلخ تجربات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کے نتیجہ میں مرکز اور ریاستی حکومت پر تنقیدوں میں اضافہ ہوچکا ہے۔ مرکز نے خلیج اور دیگر ممالک میں پھنسے ہوئے افراد کو وطن واپس لانے کیلئے خصوصی مہم شروع کی۔ ایر انڈیا کی خصوصی پروازوں کا انتظام کیا گیا تاکہ پھنسے ہوئے افراد کو واپس لایا جاسکے ۔ سابق میں جب کبھی بھی مختلف وجوہات کے سبب پھنسے ہوئے افراد کو واپس لایا گیا تو انہیں حکومت کی جانب سے کئی رعایتیں فراہم کی گئیں۔ غریب مزدوروں کو مفت واپسی کا انتظام کیا گیا تھا جبکہ دیگر افراد سے 50 فیصد فضائی کرایہ حاصل کیا گیا تھا ۔ نریندر مودی حکومت خلیجی ممالک سے خصوصی پروازوں کے ذریعہ ہندوستانیوں کو وطن واپس لانے کا دعویٰ کر رہی ہے لیکن حقیقت حال دیکھیں تو حکومت نے رعایتوں کے بجائے مزید زحمت دینے کا کام کیا ہے ۔ واپسی کے خواہاں افراد سے زائد کرایہ وصول کیا جارہا ہے اور انہیں یہ تیقن دیا گیا کہ طیارہ میں سماجی فاصلے کی برقراری کے لئے زائد کرایہ کی وصولی ضروری ہے ۔ زائد کرایہ حاصل کرنے کے باوجود طیارہ میں سماجی فاصلہ کا کوئی نظم نہیں۔ تمام نشستوں پر عام حالات کی طرح مسافرین کو بٹھایا گیا ہے ۔ واپسی کے بعد ہر کسی کو 14 دن تک کورنٹائن رہنا لازمی قرار دیا گیا لیکن اس کے اخراجات بھی ہر شخص کو اپنے طور پر برداشت کرنے ہوں گے ۔

حیدرآباد اور ملک کے دیگر بڑے شہروں میں حکام نے کورنٹائن سنٹرس کے طور پر مختلف ہوٹلوںکی نشاندہی کی ہے اور ہوٹل کے معیار کے اعتبار سے 14 دن کا پیاکیج طئے کیا گیا ہے ۔ حیدرآباد واپس ہونے والے افراد نے شکایت کی ہے کہ انہیں 14 دن کے لئے 15,000 اور 30,000 روپئے کے دو مختلف پیاکیج کا آفر دیا گیا۔ 15,000 ادا کرنے کے باوجود ہوٹلوں میں مناسب انتظامات نہیں ہیں۔ ہوٹلوں میں قیام کرنے والے افراد نے آڈیو پیامات کے ذریعہ خلیجی ممالک میں رکے ہوئے اپنے ساتھیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ آئندہ تین ماہ تک وطن واپسی کی کوشش نہ کریں کیونکہ واپسی کی صورت میں انہیں مزید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ ایرپورٹ سے لیکر ہوٹلوں کو منتقلی تک حکام کا رویہ ٹھیک نہیں ہے ۔ کویت سے آنے والے افراد کیلئے کاچی گوڑہ اور گچی باؤلی میں دو ہوٹلوںکا پیاکیج تیار کیا گیا ہے ۔ فضائی کرایہ اور پھر کورنٹائن کے اخراجات حاصل کرنے کے باوجود مناسب بنیادی سہولتوں کی کمی اور روزانہ میڈیکل ٹسٹ نہ کئے جانے سے واپس ہونے والے افراد میں ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو وطن واپسی کے رجحان میں کمی واقع ہوگی۔ خلیج میں پھنسے ہوئے ورکرس روزگار سے محرومی کے سبب پہلے ہی معاشی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں ، ایسے میں وہ کہاں سے 14 دن کے پیاکیج کا خرچ ادا کرپائیں گے ؟