حیدرآباد :۔ خلیجی ممالک کی کمپنیوں کی جانب سے ان کے سابق ملازمین کو ، جنہیں لاک ڈاؤن کے دوران ان کے وطن کو واپس بھیج دیا گیا تھا ، اب ڈیوٹی پر آنے کے لیے طلب کیا جارہا ہے کیوں کہ مشرق وسطی میں خدمات انجام دینے والی کمپنیوں کو کوویڈ کے باعث لاک ڈاؤن مدت کے دوران لیبر کی قلت کا سامنا کرنا پڑا ۔ چونکہ خلیجی ممالک میں اب حالات بہتر ہوئے ہیں ۔ اس لیے کمپنیوں کی جانب سے ان کے ملازمین کو کام پر واپس آنے کے لیے طلب کیا جارہا ہے کیوں کہ ان ممالک میں حالات بڑی حد تک بہتر ہوئے ہیں ۔ لہذا بحرین ، دوحہ ، قطر ، عمان اور دیگر خلیجی ممالک کو سوائے یو اے ای ، کویت اور سعودی عربیہ کے ورکرس کی روانگی میں اضافہ ہوا ہے ۔ عمان نے ایک ہفتہ سے ویزے جاری کرنا شروع کیا ہے اور ان ملازمین کو ویزا جاری کرنے سے اتفاق کیا ہے جو وطن واپس ہوئے ہیں ۔ جنوری سے نئے ویزے جاری کرنے کے لیے بڑی تیاری ہورہی ہے کیوں کہ فٹ بال ورلڈ کپ 2022 میں قطر میں منعقد ہونے والا ہے ۔ فی الوقت یو اے ای کو جانے کا سلسلہ جاری ہے ۔ یو اے ای میں زیادہ تر ورکرس تعمیراتی شعبہ سے منسلک ہیں ۔ ان ممالک میں کورونا وائرس وبا کے پھوٹ پڑنے سے قبل تعمیراتی شعبہ میں ورکرس کے لیے کافی بہتر مواقع تھے لیکن اس وبا کے باعث اس شعبہ میں ورکرس کے لیے روزگار کے امکانات پوری طرح متاثر ہو کر رہ گئے ہیں ۔ پابندیوں کو آسان کرنے پر اس شعبہ میں فراہمی روزگار کے ادارے کھل گئے ۔ کورونا وائرس کے پیش نظر کلینرس اور آفس بوائز کو رکروٹ کرنے کے لیے آفسیس میں سلیکشنس کیا جارہا ہے ۔ یو اے ای میں ورکرس کا سلیکشن سرکاری دفاتر میں کیا جارہا ہے ۔ بحرین میں ہوٹلس اور رسٹورنٹس کھل گئے ہیں جس کی وجہ ان کے آجرین کو وطن واپس ہوجانے والے ورکرس کو ڈیوٹی پر آنے کے لیے طلب کرنے پر مجبور ہونا پڑرہا ہے ۔ بعض ممالک میں ان ممالک کو واپس ہونے والے ورکرس کے لیے قرنطینہ کی کوئی پابندیاں نہیں ہیں ۔ جب کہ ابوظہبی میں واپس ہونے والے مائیگرنٹ ورکرس کے لیے 14 دن قرنطینہ میں رہنا ضروری ہے ۔ بحرین میں قرنطینہ کی مدت صرف ایک ہفتہ ہے ۔ قطر میں حکومت کے احکام کے مطابق آجرین کو اسٹاف کے لیے کوارنٹائن سہولت فراہم کرنی ہوگی ۔ ضلع نظام آباد میں مارٹاڈ کے نندو کو ، جس نے دبئی کی ایک کمپنی میں پلمبر کا کام کیا تھا ، دوبارہ ڈیوٹی پر آنے طلب کیا گیا ہے کیوں کہ کمپنی نے پھر سے کام شروع کردیا ہے ۔ اس کمپنی نے اس کے تمام 20 ساتھیوں سے بھی کام پر واپس آنے کے لیے کہا ہے ۔۔
