خلیجی ممالک کے ورکرس ٹیکہ اندازی سے محروم، روزگار کیلئے واپسی میں دشواریاں

   

حیدرآباد: خلیجی ممالک سے تعطیلات میں وطن واپس ہونے والے مائیگرنٹ ورکرس کورونا ٹیکہ اندازی کے بارے میں فکرمند ہیں۔ حکومت کی جانب سے مختلف شعبوں کیلئے ٹیکہ اندازی کی خصوصی مہم چلائی جارہی ہے لیکن مائیگرنٹ ورکرس کیلئے اس طرح کی کوئی مہم نہیں ہے جس کے نتیجہ میں انہیں دوبارہ خلیجی ممالک واپس ہونے میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے چار ہزار سے زائد ورکرس تعطیلات میں اپنے آبائی مقامات واپس ہوئے اور کورونا کی دوسری لہر کے آغاز کے ساتھ ہی وہ پھنس چکے ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کو واپسی کیلئے انہیں ٹیکہ اندازی لازمی طور پر کرنی ہے۔ حکومت کی جانب سے ان ورکرس کیلئے ٹیکہ اندازی کا کوئی خصوصی انتظام نہیں ہے ۔ سعودی عرب اور دیگر ممالک کیلئے پروازوں پر امتناع عائد ہے ۔ ایسے میں کسی اور ملک کے ذریعہ ورکرس خلیج جانا چاہتے ہیں تو انہیں ویکسین کی دونوں خوراکیں حاصل کرنی ہوں گی۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ تین ماہ سے خلیجی ممالک میں واپسی کے منتظر تلنگانہ ورکرس ویکسین کے سلسلہ میں مختلف سرکاری دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ انہوں نے عوامی نمائندوں سے بھی اپنی مشکلات بیان کی ہیں۔ نظام آباد ، عادل آباد ، کریم نگر اور ورنگل سے تعلق رکھنے والے ورکرس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے لئے ٹیکہ اندازی کا خصوصی انتظام کیا جائے تاکہ وہ تین ماہ میں دوبارہ خلیج واپس ہوکر اپنے روزگار سے وابستہ ہوجائیں۔