خلیجی ممالک کے ہندوستانی ورکرس کو تنخواہ کے معاملہ میں مشکلات کا سامنا

   

اقل ترین تنخواہ سے متعلق حکومت کے احکامات سے نقصان، متاثرین کا’ چلو دہلی پروگرام ‘ کا منصوبہ

حیدرآباد۔ خلیجی ممالک میں پریشان حال ہندوستانی مزدور اور ورکرس کو راحت پہنچانے کیلئے مختلف تنظیموں نے مرکز سے نمائندگی کا فیصلہ کیا ہے۔ 8 مارچ سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ اجلاس کے پیش نظر مختلف تنظیموں نے جو خلیجی ممالک میں برسر خدمت اور روزگار سے محروم ہندوستانیوں کی نمائندگی کرتے ہیں انہوں نے ’ چلو دہلی پروگرام ‘ کا اہتمام کیا ہے۔ وہ مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ سے نمائندگی کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ مرکزی حکومت کی جانب سے خلیجی ممالک کے ورکرس کیلئے طئے کی گئی اقل ترین تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ مرکز کی جانب سے طئے شدہ اقل ترین تنخواہوں سے ورکرس کے مفادات متاثر ہورہے ہیں اور آجرین کو استحصال کا موقع مل رہا ہے۔ گلف جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطابق وہ طئے شدہ اقل ترین تنخواہوں سے دستبرداری کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ان تنظیموں نے سوشیل میڈیا کے ذریعہ پہلے ہی مہم شروع کردی ہے۔ مرکزی حکومت نے حال ہی میں دو سرکیولرس جاری کئے جس سے خلیجی ممالک کے ہندوستانی ورکرس پر برا اثر پڑا ہے۔ ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں نئے سرکیولرس سے ہونے والی دشواریوں سے آگاہ کیا جائے گا۔ گلف جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے کنوینر جی روی گوڑ نے کہا کہ منچریال سے جے اے سی کا ایک وفد نئی دہلی کیلئے روانہ ہوا ہے ۔ گذشتہ کئی ماہ سے خلیجی ممالک کے ورکرس اور ان کی تنظیمیں اس معاملہ میں نمائندگی کررہی ہیں لیکن مرکز نے مثبت ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ نئے سرکیولرس کی بنیاد پر آجرین کو ہندوستانی ورکرس کی تنخواہوں میں 30 تا 50 فیصد کی کٹوتی کا اختیار دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ قطر، بحرین اور اومان میں ہندوستانی ورکرس کی اقل ترین تنخواہوں کو 200 ڈالر کردیا گیا ہے جبکہ متحدہ عرب امارات میں یہ 324 ڈالر ہیں۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کے فیصلہ سے خلیجی ممالک کے ہندوستانیوں پر برا اثر پڑے گا۔ خلیجی ممالک نے اقل ترین تنخواہوں میں کٹوتی کی کوئی درخواست نہیں کی تھی۔ قطر میں دیگر ممالک کے شہریوں کیلئے 1000 ریال اقل ترین تنخواہ حکومت کی جانب سے مقرر کی گئی لیکن حکومت ہند نے 728 ریال کردی ہے۔