امن معاہدہ کے باوجود طالبان کے القاعدہ سے رابطہ کا انکشاف :رپورٹ
واشنگٹن ۔2جون ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد امید ظاہر کی ہے کہ بین الافغان مذاکرات شروع ہونے کے لیے پیش رفت ہو رہی ہے۔انہوں نے یہ بات واشنگٹن میں نیوز بریفنگ کے دوران ایسے وقت پر کہی ہے جب افغان حکومت نے طالبان قیدیوں کی رہائی کا عمل تیز کر دیا ہے جب کہ عید پر ہونے والی تین روزہ جنگ بندی کے بعد تشدد کی کارروائیاں میں بھی پہلے کی نسبت کسی حد تک کمی ہوئی ہے۔پیر کو ہونے والی پریس بریفنگ میں زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند دن کے دوران قیدیوں کی رہائی اور پْر تشدد کارروائیوں میں کمی کے معاملے پر نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں جانب سے مزید قیدیوں کی رہائی ہونی ہے۔ان کے بقول ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ بین الافغان مذاکرات شروع ہونے سے قبل پْر تشدد کارروائیاں بہت کم ہو جائیں گی۔زلمے خلیل زاد نے یہ واضح نہیں کہا کہ بین افغان مذاکرات کب شروع ہو ں گے۔زلمے خلیل زاد کے بقول عید پر ہونے والی جنگ بندی کے بعد تشدد کے واقعات میں کمی ہوئی ہے جب کہ عید سے قبل جیسی صورت حال نہیں ہے۔دریں اثناء غیر جانبدار مبصرین کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کی امریکہ کے ساتھ ڈیل کے باوجود طالبان اور دہشت گرد تنظیم القاعدہ بالخصوص حقانی نیٹ ورک کے مابین رابطے برقرار ہیں۔ یکم جون کو سلامتی کونسل میں پیش کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان نے امریکہ کے ساتھ اپنے مذاکرات کے دوران القاعدہ کے ساتھ باقاعدگی سے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔ اس رپورٹ میں ان مبصرین نے کہا کہ طالبان اور القاعدہ کے مابین ان رابطوں میں جن عوامل نے کلیدی کردار ادا کیا اور اب تک کر رہے ہیں، ان میں شخصی دوستیاں، شادیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے سماجی رشتے، مشترکہ جدوجہد اور ایک دوسرے سے نظریاتی ہمدردی اہم ترین پہلو ہیں۔