( آئی ہرک) کا تاریخ اسلام اجلاس۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی اور پروفیسر سید محمد حسیب الدین حمیدی کے لکچرس
حیدرآباد ۔3 ؍سپٹمبر( پریس نوٹ) غزوہ اخزاب کے لئے خندق کھودتے وقت رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مختلف معجزات کا ظہور ہوا ۔ خندق کھودتے وقت مسلمانوں کو ایک سخت چٹان کا سامنا کرناپڑا۔ جب حضور انورؐ سے عرض کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ’’ ٹھہرو! میں خود اترتا ہوں‘‘۔ رسول اللہؐ نے کدال دست مبارک میں پکڑی اور اس چٹان پر ماری تو وہ پتھر ریتی کی طرح بہنے لگا(ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا)۔ یہ حدیث شریف بخاری میں ہے۔ مسند احمد اور نسائی میں اس کی مزید تفصیل ملتی ہے، ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ڈائریکٹر آئی ہرک نے اتوار کو صبح ۹ بجے ’’ایوان تاج العرفاء حمیدآباد‘‘ واقع شرفی چمن ،سبزی منڈی قدیم میں ان حقائق کا اظہار کیا۔وہ اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل (انڈیا) آئی ہرک کے زیر اہتمام منعقدہ ’۱۳۷۰‘ویں تاریخ اسلام اجلاس کے پہلے سیشن میں سیرت طیبہ کے تسلسل میں واقعات غزوہ خندق پر شرف تخاطب تھے۔ 11:30 بجے دن جامع مسجد محبوب شاہی مالاکنٹہ روڈ روبرو معظم جاہی مارکٹ میں منعقدہ دوسرے سیشن میں ایک مہاجر ایک انصاری سلسلہ کے تحت عم رسول اللہ، سید الشہداء ، حضرت حمزہ بن عبد المطلب ؓکے احوال شریف پر مبنی حقائق بیان کئے۔ قراء ت کلام پاک، حمد باری تعالیٰ،نعت شہنشاہ کونین ؐ سے اجلاس کا آغاز ہوا۔صاحبزادہ سید محمد علی موسیٰ رضا حمیدی نے اپنے خیر مقدمی خطاب میں دعوت حق کی مرحلہ وار کامیابیوںپر حقائق بیان کئے ۔ مفتی سید شاہ محمد سیف الدین حاکم حمیدی نے ایک آیت جلیلہ کا تفسیری، ایک حدیث شریف کا تشریحی اور ایک فقہی مسئلہ کا توضیحی مطالعاتی مواد پیش کیا۔ پروفیسرسید محمد حسیب الدین حمیدی جائنٹ ڈائریکٹر آئی ہرک نے تصوف کے بنیادی اصولوں سے متعلق بیان کیا اور انگلش لکچر سیریز کے ضمن میں حیات طیبہؐ کے مقدس موضوع پراپنا ’۱۰۹۷‘ واں سلسلہ وار، پر مغز اور مدلل لکچر دیا۔ ڈاکٹرسید محمد حمید الدین شرفی نے ایک مہاجر ایک انصاری سلسلہ کے تحت حضرت حمزہ بن عبد المطلبؓ کے احوال شریف کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اولاد حضرت عبد المطلب میں سبقت اسلام کے لحاظ سے اولیت کا اعزاز رکھتے تھے وہ نہ صرف رسول اللہ ؐ کے عم محترم تھے بلکہ رضاعی بھائی ہوتے تھے ۔حضرت حمزہؓ کے اسلام لانے کے باعث مسلمانوں نے اپنے لئے بڑی عزت اور قوت محسوس کی۔ حضرت حمزہؓ اپنی بہادری، دلیری، حوصلہ مندی، جرا ء ت و جسارت، مہارت حرب ، شہسواری، طاقت و قوت، حسن و وجاہت اور بہت ساری خوبیوں کے باعث اہلیان مکہ میں بہت عزت و احترام سے دیکھے جاتے تھے۔ایک روایت کے بموجب آپ نے جنگ احد میں اکتیس مشرکین کو تہہ تیغ کیا۔ ایک حبشی غلام نے اپنی آزادی کی شرط پوری کرنے کے لئے نہایت بزدلانہ طریقہ سے حضرت حمزہؓ کے پیچھے سے آپ پر حملہ کیا اور احد میں آپ کی شہادت کا سانحہ عظمیٰ رونما ہوا۔ رسول اللہؐ حضرت حمزہؓ کی شہادت اور بعد ازاں آپ کی نعش مبارک کا مشرکین کی طرف سے مثلہ کئے جانے پر بے حد ملول و رنجیدہ خاطر ہوے۔ احد کے دن شہداء میں سب سے پہلے حضرت حمزہؓ کی نماز جنازہ پڑھی گئی۔ رسول اللہ ؐ نے انھیں سید الشہداء کا خطاب عطا فرمایا۔ حضرت حمزہؓ کی اولاد میں عمارہ، امامہ، یعلی اور عامر تھے۔اجلاس کے اختتام سے قبل بارگاہ رسالت پناہیؐ میں سلام پیش کیا گیا۔ الحاج محمد یوسف حمیدی نے ابتداء میں تعارفی کلمات کہے اور آخر میںجناب محمد مظہر اکرام حمیدی نے شکریہ ادا کیا۔
