متمول ، امیر ترین سرمایہ کاروں نے دبئی سے سرمایہ سنگاپور اور ماریشس کو منتقل کرنے پر غور
حیدرآباد۔7۔مارچ۔(سیاست نیوز) دبئی کو اپنے خوابوں کا ملک قرار دیتے ہوئے دبئی میں سکونت اختیار کرنے والے اب دبئی سے فرار اختیار کرنے لگے ہیں۔دبئی کے حالات سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری منتقل کرنے پر مجبور کرنے لگے ہیں اور دنیا کا سب سے محفوظ ترین ملک جو سرمایہ کاروں کے لئے بہترین مقام کے طور پر دیکھا جا رہاتھا وہ 7یوم کی جنگ برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے۔ 28 فروری سے شروع ہونے والے حملوں کے ساتھ ہی دبئی میں رئیل اسٹیٹ تجارت میں زبردست گراوٹ ریکارڈ شروع ہوچکی ہے اور اب ان حالات کو بہتر بنانے کے لئے کی جانے والی کوششوں کے دوران ایشیائی متمول ‘امیر ترین سرمایہ کاروں نے دبئی سے اپنا سرمایہ سنگاپور کے علاوہ ماریشس منتقل کرنا شروع کردیا ہے۔ بتایاجاتاہے کہ دبئی جو کہ ٹیکس فری ہونے کے سبب تاجرین کے لئے مرکزی مقام کی حیثیت حاصل کرچکا تھا اور دبئی کو اپنے مرکز تجارت کے طور پر فروغ دینے والے تاجرین نے ایران کے مسلسل حملوں سے پریشان اب دبئی چھوڑنے لگے ہیں۔ 28 فروری کو دبئی پر ہوئے پہلے حملہ کے ساتھ ہی دبئی میں رئیل اسٹیٹ شعبہ کو دھکہ لگنے کی اطلاعات موصول ہونے لگی تھیں لیکن اندرون ایک ہفتہ دبئی کے رئیل اسٹیٹ بازار میں 10 فیصد سے زیادہ گراوٹ ریکارڈ کئے جانے کے بعد کہا جا رہاہے کہ اب دبئی کے بازار میں دوبارہ اچھال کے لئے طویل انتظار کرنا پڑے گا کیونکہ دبئی کے محفوظ ترین ہونے اور دنیا بھر کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی دبئی میں سرمایہ کاری کے نتیجہ میں دبئی ملٹی نیشنل مملکت میں تبدیل ہونے لگ گیا تھا اور دبئی میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے ہونے والی آمدنی کے نتیجہ میں امیر اور متمول لوگ اسے سرمایہ کاروں کے لئے بہترین مقام تصور کر رہے تھے۔ دبئی میں سرمایہ کاری کرنے والوں کا کہناہے کہ دبئی رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے کے علاوہ اپنی تجارتی سرگرمیوں کے مرکز کے طور پر دبئی کو فروغ دینے والوں نے اب منتقلی کے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔ تجارتی ماہرین بالخصوص ماہرین معاشیات کا کہناہے کہ اگر دنیا بھر کے ایسے شہروں کا جائزہ لیا جائے جو کہ معاشی سرگرمیوں کے مرکز رہے ہیں اور ان پر کسی حملہ کے بعد پیدا شدہ صورتحال کو دیکھا جائے تو ہندستانی شہر ممبئی پر ہوئے 26/11 دہشت گردانہ حملہ کی مثال دی جاسکتی ہے جہاں دہشت گردوں کی اس کاروائی کے بعد شہرکو محفوظ ظاہر کرنے کے لئے متعدد پروگرام منعقد کئے گئے اور عوام کو یقین دلوانے کی کوشش کی جا تی رہی لیکن اس کے باوجود 26/11 کا بھوت ممبئی کے شہریوں کا اب بھی پیچھا کر رہا ہے۔2008 میں ممبئی پر ہوئے اس ایک حملہ کے بعد ممبئی کو اب تک سرمایہ کاروں کے لئے 2008 سے قبل کی طرح محفوظ قرار دینے میں کئی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا یعنی 26/11کے بعد ممبئی کے بازار بالخصوص رئیل اسٹیٹ شعبہ میں استحکام کے علاوہ دیگر امور کے لئے 10 سال کا عرصہ لگا حالانکہ ان حملوں کے فوری بعد ممبئی دوبارہ مصروف نظر آنے لگی تھی ۔دبئی جو کہ 7 یوم سے ایران کے حملے برداشت کر رہا ہے اسے سنبھلنے کے لئے کتنا عرصہ لگے گایہ کوئی کہہ نہیں سکتا کیونکہ دبئی کو ایک مخصوص نظریہ کے حامل ملک کے حملوں کا سامنا ہے اور ان حملوں کا سلسلہ ابھی جاری ہے اور کوئی یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ یہ حملوں کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا اور ان حملوں کے دوران دبئی میں موجود کتنے سرمایہ کار ملک سے تخلیہ کرچکے ہوں گے!3