یوم خواتین محض تشہیری مہم اور تجارتی سرگرمیوں تک محدود، نظام آباد میں عوامی تنظیموں کا اجلاس
نظام آباد۔ 8؍مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)۔ بین الاقوامی یومِ خواتین کے موقع پر سی آئی ٹی یو ضلع آفس پر عوامی تنظیموں سی آئی ٹی یو، اے آئی کے ایس، اے آئی اے ڈبلیو یو، اے آئی ڈی ڈبلیو اے، ڈی وائی ایف آئی اور ایس ایف آئی کے زیر اہتمام ضلع سطحی اجلاس منعقدہ کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت اے آئی ڈی ڈبلیو اے ضلع صدر انیتا نے کی۔ اس موقع پر سی آئی ٹی یو ضلع سکریٹری نورجہاں، بیگم زرعی مزدور سنگھ کے ضلع سکریٹری پدی وینکٹ راملو اور سی آئی ٹی یو ضلع نائب صدر اے رمیش بابو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی یومِ محنت کش خواتین کوئی جشن نہیں بلکہ طویل جدوجہد اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔مقررین نے کہا کہ 1901 میں کوپن ہیگن میں منعقدہ دوسرے بین الاقوامی سوشلسٹ خواتین کانفرنس میں کلارا زیٹکن کی تجویز پر عالمی یومِ محنت کش خواتین منانے کا آغاز ہوا۔ اس سے قبل 8 ؍مارچ 1857 کو نیویارک میں گارمنٹ فیکٹری کی خواتین مزدوروں نے بہتر اجرت اور 10 گھنٹے کے کام کے دن کے مطالبہ کے ساتھ احتجاج کیا تھا جبکہ 1908 میں تقریباً 30 ہزار خواتین مزدوروں نے ’’بھوک سے مرنے کے بجائے جدوجہد کرتے ہوئے بھوکا رہنا بہتر ہے‘‘ کے نعرہ کے ساتھ زبردست مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکمران طبقات اور کارپوریٹ ادارے 8؍ مارچ کو محض تشہیری مہمات اور تجارتی سرگرمیوں تک محدود کر کے اس دن کی جدوجہد کی روح کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مقررین نے مرکز کی بی جے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کارپوریٹ مفادات کے لیے عوام مخالف اور فرقہ وارانہ پالیسیوں کو فروغ دے رہی ہے جس کے نتیجہ میں خواتین کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ ملک میں خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم، عصمت ریزی اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے مگر حکومت انہیں روکنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ محنت کش خواتین کو مساوی کام کے عوض مساوی اجرت نہیں دی جا رہی جبکہ کام کی جگہوں پر انہیں امتیاز اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دیہی علاقوں میں روزگار کے اہم ذریعہ زراعت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، کسانوں کو مناسب امدادی قیمت نہیں دی جا رہی اور مہاتما گاندھی دیہی روزگار ضمانت اسکیم کے بجٹ میں کٹوتی سے غریب خاندانوں خصوصاً خواتین کی آمدنی متاثر ہو رہی ہے۔ مقررین نے الزام لگایا کہ تعلیم کے شعبہ میں بھی فرقہ وارانہ نظریات کو فروغ دیا جا رہا ہے جس سے سائنسی اور معروضی تعلیم کو نقصان پہنچ رہا ہے۔اجلاس میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد، ملازمت کے مقامات پر جنسی ہراسانی اور سماجی امتیاز کے خلاف مضبوط جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا گیا اور عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ خواتین کے مساوی حقوق، معاشی انصاف اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر آواز بلند کریں۔ اس موقع پر کسان سنگھ کے ضلع قائدین دیویندر سنگھ، سی آئی ٹی یو ضلع نائب صدر پی سورنا، سکنیہ، سوریا کلا، رینوکا، ڈی راملو، ایس کے امام، نیلاوتی، سرسوتی اور دیگر نے بھی شرکت کی۔