خواتین اپنے حق کے لیے قلم کو ہتھیار بنالیں

   

محفل خواتین کے ماہانہ اجلاس سے پروفیسر شاہدہ مرتضیٰ کا خطاب
حیدرآباد ۔ 15 ۔ دسمبر : ( راست ) : ’ باوجود آزادی نسواں کے عورت آج بھی آزاد نہیں ، اسے اپنا حق منوانے کے لیے اپنے قلم کو ہتھیار بنانے کی ضرورت ہے اور کارہائے نمایاں انجام دے کرا پنے وجود کو تسلیم کروانا ہے ‘ ۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر شاہدہ مرتضیٰ ( مانو ) نے کیا جو محفل خواتین کے ماہانہ اجلاس کی صدارت کررہی تھیں ۔ یہ اجلاس 11 دسمبر کو اردو ہال میں منعقد ہوا ۔ انہوں نے محفل خواتین کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ محفل سے وابستہ خواتین نے شعری و نثری تخلیقات سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ہے اور آج ادبی دنیا میں ان کی منفرد پہچان ہے ۔ مہمان خصوصی محترمہ انیس عائشہ نے ادبی اجلاس میں محترمہ اسریٰ تبسم کے افسانے ’ بہاروں کی نوید ‘ اور محترمہ ثریا جبین کے مضمون ’ خواتین کی سماجی خدمات یا نمائش ‘ پر تبصرہ پیش کرتے ہوئے مفید مشورے دئیے ۔ مہمانوں کا خیر مقدم محترمہ تسنیم جوہر نے کیا ۔ ڈاکٹر نکہت آرا شاہین نے ادبی اجلاس کی کارروائی انجام دی ۔ بعد ازاں ڈاکٹر عطیہ مجیب عارفی کی نظامت میں محفل شعر آراستہ کی گئی جس میں محترمہ مظفر النساء ناز ، تسنیم جوہر ، ریاض فاطمہ تشہیر ، نصرت ریحانہ آصف ، عطیہ مجیب عارفی ، رفیعہ نوشین ، ثمینہ بیگم اور فہمیدہ تبسم نے اپنا کلام پیش کیا ۔ میزبان محفل ڈاکٹر نکہت آرا شاہین تھیں ۔ جلسہ کے اختتام پر محترمہ رفیعہ نوشین نے شکریہ ادا کیا ۔ اس موقع پر خواتین و طالبات اسکالرس کی کثیر تعداد موجود تھی ۔۔