مسلم رکن کی توہین کرنے والے بی جے پی رکن کے خلاف کارروائی کامطالبہ، جماعت اسلامی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔/4اکٹوبر، ( سیاست نیوز) جماعت اسلامی ہند نے خواتین تحفظات بل میں او بی سی اور مسلم خواتین کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ سماجی عدم مساوات دور کرنے کیلئے مسلم خواتین کو تحفظات ضروری ہیں۔ جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر محمد سلیم انجینئر، نائب امیر جناب ملک معتصم خاں اور شعبہ خواتین کی نیشنل سکریٹری رحمت النساء نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے خواتین تحفظات بل، پارلیمنٹ میں بی جے پی رکن اسمبلی کی جانب سے مسلم رکن کی توہین اور دیگر موضوعات پر اظہار خیال کیا۔ خواتین تحفظات بل پر جماعت اسلامی کا موقف ہے کہ بل کے تحت راجیہ سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین تحفظات کی کوئی صراحت نہیں ہے۔ اس بل میں مستحق طبقات کو نظرانداز کردیا گیا۔ ایس سی اور ایس ٹی طبقات کی خواتین کے علاوہ مسلم اور او بی سی خواتین کو نمائندگی ملنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز اداروں میں مسلم نمائندگی مسلسل گھٹ رہی ہے۔ جماعت اسلامی نے بی جے پی رکن کی جانب سے مسلم رکن دانش علی کے خلاف توہین آمیز ریمارکس کی مذمت کی اور کہا کہ بی جے پی رکن نے پارلیمنٹ کے وقار کو مجروح کیا ہے۔ اس معاملہ میں وزیر اعظم کی خاموشی معنی خیز ہے۔ بی جے پی رکن کے خلاف تاحال کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ جماعت اسلامی نے بی جے پی رکن کی رکنیت ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ماب لنچنگ اور خواتین کے خلاف تشدد کے بڑھتے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جماعت اسلامی قائدین نے کہا کہ ملک میں فرقہ وارانہ ماحول کے نتیجہ میں یہ واقعات پیش آرہے ہیں۔ جماعت اسلامی نے بہار میں ذات پر مبنی مردم شماری کا خیرمقدم کیا اور دہلی میں صحافیوں کے مکانات پر پولیس دھاؤں کی مذمت کی۔