متعدد وزراء اور مجلس کے نشستیں خواتین کیلئے محفوظ ہونا یقینی، سیاسی سازش پر ناموں کی ممکن
حیدرآباد۔یکم ۔اکٹوبر۔(سیاست نیوز) ملک میں خواتین کو تحفظات کی فراہمی کے فیصلہ کے بعد ریاست تلنگانہ میں جن حلقہ جات اسمبلی کو محفوظ کیا جاسکتا ہے ان میں 10ایس سی اور ایس ٹی حلقہ جات اسمبلی کے علاوہ 29 جنرل حلقہ جات اسمبلی شامل ہوں گے اور اگر مرکزی حکومت کی جانب سے منظور کئے گئے 33 فیصد خواتین کے لئے محفوظ نشستوں پر فوری اثر کے ساتھ عمل آوری کو یقینی بنایا جاتا تو ایسی صورت میں خود چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اپنے حلقہ اسمبلی گجویل سے مقابلہ کے اہل نہیں رہتے بلکہ ان کے علاوہ میڑچل حلقہ اسمبلی سے منتخب ہونے والے ریاستی وزیر سی ایچ ملا ریڈی ‘ کریم نگر سے منتخب ہونے والے ریاستی وزیر جی کملاکر ‘ اور کھمم حلقہ اسمبلی سے نمائندگی کرنے والے ریاستی وزیر پی اجئے کمار کے علاوہ 6 مجلسی ارکان اسمبلی اور کئی اہم قائدین کی نشستیں محفوظ ہوجاتیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ جس حلقہ اسمبلی کی نمائندگی کرتے ہیں اس حلقہ اسمبلی میں مرد رائے دہندوں کی تعداد 1لاکھ 29 ہزار 986 ہے جبکہ خواتین رائے دہندوں کی تعداد 1لاکھ 31ہزار266 ہے ۔ مجلسی ارکان اسمبلی جن حلقہ جات اسمبلی سے نمائندگی کرتے ہیں ان میں 6حلقہ جات اسمبلی ایسے ہیں جو کہ رائے دہندوں کے تناسب کے اعتبار سے محفوظ کئے جاسکتے ہیں جن میں قائد ایوان مقننہ مجلس پارٹی اکبرالدین اویسی کا حلقہ انتخاب چندرائن گٹہ بھی شامل ہے۔ جہاں مرد رائے دہندوں کی تعداد 1 لاکھ 63ہزار619ہے جبکہ خواتین رائے دہندوں کی تعداد 1لاکھ 62ہزار931 ہے۔ اسی طرح حلقہ اسمبلی چارمینار کے سواء دیگر حلقہ جات اسمبلی جہاں سے مجلس کے ارکان اسمبلی منتخب ہوتے ہیں جن میں چندرائن گٹہ ‘ بہادرپورہ‘ یاقوت پورہ‘ نامپلی ‘ ملک پیٹ اور کاروان شامل ہے ان کو بھی خواتین کے لئے محفوظ کئے جانے کا امکان ہے کیونکہ حلقہ اسمبلی بہادر پورہ میں جہاں مرد رائے دہندوں کی تعداد 1لاکھ51ہزار 146ہے وہیں خاتون رائے دہندوں کی تعداد 1لاکھ 46ہزار780ہے اسی طرح حلقہ اسمبلی ملک پیٹ میں مرد رائے دہندوں کی تعداد 1لاکھ57ہزار13ہے جبکہ خاتون رائے دہندوں کی تعداد اس حلقہ میں 1لاکھ 52ہزار644ہے ۔ حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ میں مرد رائے دہندوں کی تعداد 1لاکھ 73ہزار 148 ہے جبکہ حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ میں خاتون رائے دہندوں کی تعداد 1لاکھ 67 ہزار 82 ریکارڈ کی گئی ہے ۔
حلقہ اسمبلی نامپلی میں جہاں مرد رائے دہندوں کی تعداد 1 لاکھ 62ہزار844ہے وہیں خاتون رائے دہندوں کی تعداد اس حلقہ اسمبلی میں 1لاکھ 51ہزار710ہے۔حلقہ اسمبلی کاروان میں جہاں 1لاکھ77ہزار357 مرد رائے دہندے موجود ہیں اس حلقہ میں 1لاکھ 67 ہزار145 خاتون رائے دہندے موجود ہیں۔ سیاسی ماہرین کے مطابق ریاست میں اگر آئندہ 5برسوں کے دوران فہرست رائے دہندگان میں شامل ناموں کو کم کرنے کی سازش کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں خواتین تحفظات بل کے وقت فہرست رائے دہندگان میں شامل خواتین کی تعداد کا مجموعی فیصد نکالا جاسکتا ہے۔چیف منسٹر ‘ ریاستی وزراء کے علاوہ مجلسی ارکان اسمبلی کے حلقہ جات اسمبلی کے ساتھ ساتھ جن حلقہ جات اسمبلی کو محفوظ کئے جانے کا امکان ہے ان میں مزید کئی حلقہ جات اسمبلی شامل ہیں۔