خواتین وکلاء نے اپنی ساتھی وکیل کا ہاتھ کاٹ ڈالا

   

قاہرہ: عدالت وہ مقام ہے جہاں مظلوم کو انصاف ملتا ہے اور وکلاء انصاف کے حصول کیلئے کمزوروں کا دفاع کرنے کیلئے جانے جاتے ہیں، لیکن مصر کے شہر اسکندریہ میں پیش آئے والے ایک واقعہ نے اس سب کو تہس نہس کر دیا۔ اسکندریہ کی عدالت کے اندر ایک خاتون وکیل پراس کی ساتھی وکلاء کی طرف سے تشدد کیا گیا اور اسے تیز دھار آلے سے وار کرکے شدید زخمی کردیا گیا۔خاتون وکیل ایڈووکیٹ ’امیرہ طارق‘ نے تین دیگر خواتین وکلاء پر الزام لگایا کہ انہوں نے اسے اسکندریہ کورٹ میں ایک باتھ روم میں لے جاکر وہاں ایک تیز دھار ہتھیار کا استعمال کرتے ہوئے اس پر حملہ کیا جس سے اس کے بائیں ہاتھ پر شدید چوٹ آئی اور وہ جزوی طور پر معذور ہو گئی ہے۔خاتون وکیل نے کہا کہ وہ ڈیڑھ سال سے دیگر خواتین وکلاء کی جانب سے بدمعاشی،دھونس، دھمکیوں، بدتمیزی اور بدزبانی کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔اس کی وجہ سے اس نے ان کے خلاف جنرل پراسیکیوٹر کے پاس شکایت درج کرائی تو خواتین وکلاء نے ان سے اس عجیب و غریب طریقے سے بدلہ لینے کا اشارہ کیا۔متاثرہ وکیل نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ان میں سے ایک حملہ آور اس کی سہیلی تھی۔ ان میں سے ایک نے اسے عدالت میں موجود خواتین کے باتھ روم میں آنے کیلئے کہا تاکہ اس کے اور دوسری خواتین وکلاء کے درمیان جاری تنازعہ کو حل کرنے میں اس کی مدد کرے۔ باتھ روم پہنچی تو وہ دوسرے دو وکلاء کی موجودگی سے حیران رہ گئی۔ انہوں نے اسے باتھ روم کے اندر دھکیل کر باتھ روم کا دروازہ بند کر دیا۔یہ ایک گھات لگا کر کیا گیا حملہ تھا۔ وہ چیخ رہی تھی اور اس کی مدد کو کوئی نہیں پہنچا۔