خواتین پر مظالم میں اضافہ حکومت کی بے حسی کا نتیجہ

   

بھٹی وکرمارکا اور سریدھر بابو کا دورہ آصف آباد، مہلوک خاتون کے پسماندگان سے ملاقات
حیدرآباد ۔9۔ڈسمبر (سیاست نیوز) سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرمارکا اور رکن اسمبلی ڈی سریدھر بابو نے سابق رکن پارلیمنٹ رمیش راتھوڑ کے ہمراہ آج آصف آباد ضلع کا دورہ کرتے ہوئے اس خاتون کے افراد خاندان سے ملاقات کی جسے حال ہی میں بہیمانہ طور پر قتل کردیا گیا۔ کانگریس قائدین نے ٹی لکشمی کے پسماندگان سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں انصاف دلانے کا تیقن دیا۔ کانگریس قائدین نے کہا کہ وہ خاطیوں کو سزا دلانے حکومت سے نمائندگی کریں گے ۔ بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ لنگاپور موضع میں اشرار نے دلت طبقہ سے تعلق رکھنے والی غریب خاتون کو قتل کردیا اور پولیس خاطیوں کے خلاف کارروائی میں ناکام ہوچکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کو چھپانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم کانگریس پارٹی نے پسماندگان کو انصاف دلانے کا تہیہ کرلیا ہے۔ 24 نومبر کو یہ واقعہ پیش آیا لیکن آج تک برسر اقتدار پارٹی کے قائدین ، ارکان اسمبلی اور وزراء میں کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ متاثرہ خاندان کو پرسہ دیں۔ انہوں نے پولیس کے رویہ پر تنقید کی اور کہا کہ عوام کے تحفظ کے بجائے پولیس ٹی آر ایس قائدین کیلئے کام کر رہی ہے۔ ریاست بھرمیں پولیس کا یہی حال ہے جس کی گورنر سے شکایت کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس قائدین کی ہدایت پر پولیس کام کر رہی ہے جبکہ اس کا کام غیر جانبداری سے کارروائی کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین پر مظالم میں اضافہ کے سبب سماج میں خوف کا ماحول ہے۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ مستقبل میں مظالم کے واقعات کو روکنے کیلئے موجودہ قوانین میں ترمیم کے ذریعہ عبرتناک سزاؤں کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد ، ورنگل اور دیگر علاقوں میں خواتین کے قتل کے واقعات پیش آچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں شراب کی فروخت میں اضافہ کے نتیجہ میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کو جرائم پر قابو پانے سے زیادہ شراب فروخت کے ذریعہ آمدنی میں اضافہ کی فکر ہے۔ گزشتہ چار برسوں کے دوران شراب کی فروخت سے حکومت کو بھاری منافع حاصل ہوا ہے۔ ہر سال 4000 کروڑ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھونگیر کے حاجی پور میں تین لڑکیوں کو قتل کرنے والے شخص کو گزشتہ 9 ماہ کے دوران سزا نہیں ملی۔ فاسٹ ٹریک کورٹ کے باوجود سزا کا اعلان نہیں کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو خواتین کے تحفظ میں دلچسپی نہیں ہے ۔ بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ چیف منسٹر کو فارم ہاؤز سے نکل کر اپنے دفتر میں بیٹھنا چاہئے تاکہ بہتر طور پر نظم و نسق چلا سکیں۔ رکن اسمبلی سریدھر بابو نے کہا کہ تلنگانہ میں جرائم کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین خود کو غیر محفوظ تصور کر رہے ہیں۔ انہوں نے عصمت ریزی اور قتل کے مجرمین کو سخت سزاؤں کے لئے قوانین میں ترمیم کی سفارش کی ۔