خواتین کا تحفظات بل لوک سبھا میں منظور ، آج راجیہ سبھا میں بحث

,

   

Ferty9 Clinic

بل کی تائید میں 454 ووٹ ، صرف دو ارکان نے مخالفت کی ۔نصف ریاستی اسمبلیوں کی منظوری بھی درکار

حکومت اور اپوزیشن کا انوکھا اتفاق رائے

نئی دہلی : لوک سبھا نے آج ویمنس ریزرویشن بل کو 454 ووٹوں کے ساتھ منظور کرلیا ۔ ناری شکتی وندن ادھینیم کے ذریعہ پارلیمنٹ کے ایوان زیریں کے ساتھ ساتھ ریاستی قانون ساز اسمبلیوں میں بھی خواتین کو 33 فیصد نشستیں ملیں گی ۔ تاہم مجوزہ قانون پر عمل آوری کیلئے مزید کئی سال درکار ہوسکتے ہیں اور اس بات پر اپوزیشن قائدین نے شدت سے توجہ دلائی ہے۔اسپیکر اوم برلا نے شام میں ووٹنگ کے بعد اعلان کیا کہ خواتین کے تحفظات کا بل ایوان میں موجود ارکان کی دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیا گیا ہے ۔جمعرات کو راجیہ سبھا میں اس بل پر دن بھر مباحث ہوں گے ۔ اس بات کا اعلان راجیہ سبھا کے چیرمین جگدیپ دھنکڑ نے کیا ۔ ایوان بالا میں مباحث کیلئے تقریباً ساڑھے سات گھنٹے کا وقت رکھا گیا ہے ۔لوک سبھا میں 454 ایم پیز نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا جبکہ صرف دو ارکان ( مجلس کے اسد الدین اویسی اور امتیاز جلیل ) اس کے خلاف ووٹ دیا ۔ یہ بل اب پارلیمنٹ کے ایوان بالا کی منظوری کا متقاضی ہے جس کے بعد کم از کم ہندوستان کی نصف ریاستی اسمبلیوں کی منظوری بھی درکار ہوگی ۔ تب اسے قانون کی حیثیت سے لاگو کیا جاسکے گا ۔ 1996 ء میں پہلی مرتبہ ویمنس ریزرویشن بل پیش کئے جانے کے بعد سے اس کی منظوری کیلئے 6 کوششیں ہوئیں ۔ بعض دفعہ قانون ساز وں نے شدت سے مزاحمت کی ۔ موجودہ طور پر ہندوستان نے لگ بھگ 800 میں سے محض 104 خاتون ایم پیز ہیں ۔ اس بل میں قطعی مدت کی کوئی صراحت نہیں کی گئی ہے جس پر اپوزیشن نے اعتراض کیا ہے ۔ جب یہ بل تمام ایوانوں سے منظوری حاصل کرلے گا تو پھر مردم شماری اور ملک بھر میں نئی حد بندی کے عمل سے گزرنے کے بعد ہی اسے لاگو کیا جائے گا ۔ یعنی تب ویمنس ریزرویشن شروع ہوگا ۔ قبل ازیں دن بھر کی بحث کے بعد لوک سبھا نے خواتین ریزرویشن سے متعلق دستوری (128 ویں ترمیم) بل 2023 کو منظور کرلیا، جو ملک کی لوک سبھا اور قانون ساز اسمبلیوں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرتا ہے۔ خو اتین کے ریزرویشن سے متعلق ’ناری شکتی وندن بل‘ منگل کو مرکزی وزیر قانون ارجن رام میگھوال نے لوک سبھا میں پیش کیا تھا۔ اب اس بل پر جمعرات کو راجیہ سبھا میں بحث ہوگی۔ راجیہ سبھا کے چیئرمین جگدیپ دھنکھر نے ایوان میں اس کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایوان میں مختلف جماعتوں کے قائدین کے ساتھ بات چیت کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ جمعرات کو اس بل پر بحث کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں بل پاس ہونے کے بعد اسے ایوان بالا میں بحث اور منظوری کے لئے پیش کیا جائے گا۔ اس بل پر بحث کیلئے ساڑھے سات گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ حکومت نے منگل کو نئے پارلیمنٹ ہاؤس میں کارروائی کے پہلے دن لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کو ایک تہائی ریزرویشن فراہم کرنے سے متعلق تاریخی ’ناری شکتی وندن بل‘ ایوان زیریں میں پیش کیا تھا۔ بہر حال بل کی دفعات یہ واضح کرتی ہیں کہ اس کے قانون بننے کے بعد کرائی جانے والی مردم شماری کے اعداد و شمار کو مدنظر رکھتے ہوئے حلقوں کی حد بندی یا دوبارہ حد بندی کے عمل کے بعد ہی ریزرویشن لاگو ہوگا۔اپوزیشن بالخصوص کانگریس کی طرف سے سونیا گاندھی اپنی تقریر میں پہلے ہی واضح کرچکی ہیں کہ اس بل کی منظوری کے بعد قانون کے نفاذ میں کئی سال درکار ہوں گے جو بالکلیہ مناسب نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کی ایسی تمام خامیوں کو دور کرنا ہوگا ۔