خواتین کیخلاف بڑھتے جرائم پر سپریم کورٹ شرمندہ ، ٹھوس کارروائی پر زور

   

نئی دہلی ، 22 جولائی (یو این آئی) خواتین کے خلاف وحشیانہ تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے آج کہا کہ خواتین کو زندہ جلائے جانے کے حالیہ واقعات سمیت حملوں کے اکثر واقعات سن کر ‘‘شرمندگی ہوتی ہے ’’۔ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باگچی پر مشتمل بنچ سپریم کورٹ ویمن لائرز ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کر رہی تھی ۔درخواست میں جنسی جرائم کے مرتکب افراد کی قومی رجسٹری قائم کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے جو تمام خواتین کے لیے قابل رسائی ہو۔ سماعت کے دوران سینئر ایڈوکیٹ مہالکشمی پوانی نے اس بات کو اجاگر کیا کہ صرف دو دن پہلے ایک لڑکی کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔ جسٹس کانت نے جواب دیا، ‘‘ہمیں بھی اتنی ہی تشویش ہے … دور دراز کے علاقوں میں بہت سے مجبور لوگ اس کا شکار ہیں۔ شاید ان کے لیے وسیع تشہیر کام نہ آئے ۔ ان زمینی حقائق کو قبول لینا چاہیے ۔جسٹس کانت نے ایڈیشنل سولیسٹر جنرل ایشوریہ بھارتی سے زور دے کر کہاکہ ‘‘ممکنہ حل کا جائزہ لیں… ایسی جامع ہدایات جاری کریں کہ جن کا حقیقت میں اثر ہو۔ جب کوئی واقعہ پیش آتا ہے تب ہم بیدار ہوتے ہیں۔ یہی غلطی نظام میں چلی آرہی ہے ۔’’انہوں نے تجویز دی کہ گاؤں کے تعلیم یافتہ افراد کو قانونی مددگار کارکنان کے طور پر مقرر کیا جائے تاکہ انصاف کے حصول میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جاسکے ۔جسٹس کانت نے تجویز پیش کی کہ پنچایت ریزرویشن کے تحت سرپنچ کے طور پر منتخب ہونے والی خواتین کو قانونی مددگار ورکرز کے طور پر کام کرنے کا اختیار دیا جا سکتا ہے۔
عرضی میں عدالت سے اس طرح کے جرائم کی روک تھام کے لیے سخت اور مقررہ وقت پر رہنما خطوط جاری کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پارلیمنٹ نے سخت قوانین منظور کیے ہیں لیکن اُن کو اثردار طریقے سے اور بروقت نافذ نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے جرائم پیشہ افراد کو کوئی خوف نہیں ہے ۔

صدر جمہوریہ کی سپریم کورٹ سے مشاورتی رائے کی طلبی
نئی دہلی، 22 جولائی (یو این آئی) سپریم کورٹ نے منگل کو مرکز اور تمام ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کرکے اُن سے اس بارے میں اپنا موقف ظاہر کرنے کے لیے کہاہے کہ کیا عدالتیں ریاستی ودھان سبھاؤں کے منظور کردہ بلوں پر غور کرتے وقت صدرجمہوریہ اور گورنروں کے لیے وقت کی حد اور طریقۂ کار طے کرسکتی ہیں؟اس معاملے پر صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے 13 مئی کو عدالت عظمیٰ سے مشاورتی رائے طلب کی تھی اور اس سے 14 سوالات پوچھے ۔چیف جسٹس بی آر گوئی اور جسٹس سوریہ کانت، جسٹس وکرم ناتھ، جسٹس پی ایس نرسمہا اور جسٹس اتل ایس چندورکر پر مشتمل ایک آئینی بنچ نے صدر جمہوریہ کی جانب سے سپریم کورٹ سے مشاورتی رائے طلب کیے جانے کے معاملے پر سماعت کی اور اس پر غور کرنے کے بارے میں اتفاق ظاہر کیا۔اس پارنچ رکنی بنچ نے اس معاملے میں مرکز اور سبھی ریاستی سرکاروں کو نوٹس جاری کرنے کے علاوہ اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمانی سے بھی اس معاملے میں کورٹ کی مدد کرنے کو کہا۔آئینی بنچ اس معاملے کی اگلی سماعت 29جولائی کو کرے گی۔

ڈھابہ مالکان کانوڑ یاترا کے دوران لائسنس اور
رجسٹریشن سرٹیفکیٹ ظاہر کریں:سپریم کورٹ
نئی دہلی، 22 جولائی (یو این آئی) سپریم کورٹ نے کانوڑ یاترا کے راستے میں پڑنے والے ہوٹلوں پر ‘کیو آر کوڈ’ ظاہر کرنے سے متعلق تنازعہ پر منگل کو ریاستی حکومتوں کو کوئی ہدایت جاری نہیں کی، لیکن دکانداروں سے لائسنس اور رجسٹریشن سرٹیفکیٹ ظاہر کرنے کو کہا۔جسٹس ایم ایم سندریش اور جسٹس این کے سنگھ کی بنچ نے کہا کہ صارفین کو یہ جاننے کا حق ہے کہ آیا متعلقہ ڈھابہ میں پہلے نان ویجیٹیرین کھانا پیش کیاجاتا تھا۔ اگر کوئی صرف کانوڑ یاترا کے دوران ویجیٹیرین کھانا پیش کرتا ہے ، تو صارفین کو اس سے آگاہ ہونا چاہیے۔ بنچ نے کہا، ‘‘ہمیں مطلع کیا گیا ہے کہ آج یاترا کا آخری دن ہے ۔ اس موقع پر، ہم تمام متعلقہ ہوٹل مالکان سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ قانونی طور پر ضروری لائسنس اور رجسٹریشن سرٹیفکیٹ ظاہر کرنے کے حکم کی تعمیل کریں۔

سپریم کورٹ کا وقف ایکٹ پر عرضی کو منتقل کرنے سے انکار
نئی دہلی، 22 جولائی (یو این آئی) سپریم کورٹ نے وقف ایکٹ 1995 کو چیلنج کرنے والی رٹ پٹیشن کو دہلی ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ میں منتقل کرنے سے منگل کے روز انکار کر دیا۔چیف جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس کے ونود چندرن اور این وی انجاریا کی بنچ نے ایڈوکیٹ اشونی کمار اپادھیائے کی عرضی پر غور کرنے سے انکار کردیا۔بنچ نے صرف میڈیا میں سرخیاں پانے کے لیے درخواستیں دائر کرنے کے رجحان پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ایڈوکیٹ اشونی اپادھیائے نے دہلی ہائی کورٹ میں زیر التواء رٹ پٹیشن کو سپریم کورٹ میں منتقل کرنے کی درخواست کی تھی۔چیف جسٹس گوائی نے ابتدا میں کہا کہ اسی طرح کے مقدمے پہلے ہی عدالت میں زیر التواء ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کے چیف جسٹس سنجیو کھنہ نے پہلے ہی رٹ پٹیشن کو قبول کرنے کے لیے وقت مقرر کر دیا تھا۔ تکرار سے بچنے کے لیے کوئی نئی درخواست نہیں سنی جائے گی۔