بنگلورو ۔ رائل چیلنجرز بنگلور آئی پی ایل کی تاریخ کی ان ٹیموں میں شامل ہے، جو ایک بار بھی خطاب نہیں جیت سکی ہے لیکن اس بار وہ اپنا انتظار ختم کرنے کی کوشش کرے گی۔ اس کے علاوہ ڈبلیو پی ایل میں جیت نے آئی پی ایل جیتنے کا دباؤ بھی بڑھا دیا ہے۔ وجے مالیا نے کہا تھا کہ جب ہم آئی پی ایل خطاب بھی جیتیں گے تو مزہ زیادہ آئے گا۔ واضح ہو کہ اس سال ڈبلیو پی ایل چیمپئن بننے کے بعد آر سی بی پر آئی پی ایل جیتنے کا دباؤ بڑھ گیا ہے اور کیوں نہیں بڑھاتے؟ انتظار کے16 موسم کم نہیں ہوتے ۔ ڈبلیو پی ایل میں آر سی بی کو صرف دوسرے سیزن میں ہی ٹرافی ملی۔ اس سے پیدا ہونے والے زیادہ جوش و جذبے کی وجہ سے اب رائل چیلنجرز بنگلور اس سال آئی پی ایل گراؤنڈ جیت کر 17 سال کا انتظار ختم کرنا چاہے گا۔ آئی پی ایل جیتنے کا انتظار ختم ہونا ہے۔ آر سی بی کی یہ سوچ یقیناً اچھی ہے لیکن کرکٹ میں فتح کا انتظار ختم کرنے، ٹرافی جیتنے اور چمپئن کا لبادہ پہننے کے لیے ایک بہتر ٹیم کمبی نیشن کے ساتھ میدان میں اترنا ضروری ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈبلیو پی ایل جیتنے کے بعد آر سی بی فرنچائز پرآئی پی ایل جیتنے کا دباؤ بڑھ گیا ہے لیکن اس دباؤ میں بکھرے بغیر اسے اس ٹیم کے انتخاب پر توجہ مرکوز کرنی ہوگی، وہ پلیئنگ الیون جو میدان میں آکر رنگ جما سکے۔ جب آر سی بی اپنی سب سے طاقتور ٹیم یعنی آئی پی ایل 2024 کے لیے بہترین پلیئنگ الیون بنانے کے بارے میں سوچ بچار شروع کردیتا ہے، تو اسے بہترین اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ اپنے کھلاڑی کو نظراندازکرنے جیسے سخت فیصلے لینے پڑ سکتے ہیں۔ ایسا اس لیے ہوگا کیونکہ آئی پی ایل کی رول بک کے مطابق ہر ٹیم کے پلیئنگ الیون میں صرف 4 کھلاڑی غیر ملکی ہو سکتے ہیں اور اس پیمانے پر بہتر اسٹرائیک ریٹ کے باوجود جس کھلاڑی کا نام ول جیکس ہے اسے جگہ نہیں ملتی۔ ول جیکس ایک اوپنر ہیں اوراگر ہم 2022 سے اب تک کی شروعات میں ان کے اسٹرائیک ریٹ کو دیکھیں تو وہ آر سی بی کے باقاعدہ اوپنر ویراٹ کوہلی اور کپتان فاف ڈو پلیسس سے بہت آگے کھڑے نظر آئیں گے۔ ول جیکس کا اسٹرائیک ریٹ 163.2 ہے۔ وہیں ویراٹ کوہلی کا اوپننگ میں اسٹرائیک ریٹ 126.1 جبکہ فاف ڈو پلیسس کا 139.9 رہا ہے لیکن زیادہ اسٹرائیک ریٹ کے باوجود ول جیکس نہیں کھیل سکتے کیونکہ فاف ڈو پلیسی پہلے ہی اوپننگ میں غیر ملکی کھلاڑی ہیں، جو کپتان بھی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ول جیکس سے بھی زیادہ تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کی ٹیوننگ بھی ویراٹ کے ساتھ اوپننگ میں طے ہے۔ مہنگے ترین کھلاڑی میکسویل کے ساتھ مڈل آرڈرکو مضبوط کریں گے۔ آر سی بی کے پاس ٹاپ آرڈر میں ویراٹ اور ڈو پلیسی ہوں گے اور رجت پاٹیدار، گلین میکسویل اور کیمرون گرین جیسے کھلاڑی بھی مڈل آرڈر میں ٹیم کو مضبوط کرنے کے لیے موجود ہوں گے۔ گرین آر سی بی کے سب سے مہنگے کھلاڑی ہیں، جو آل راؤنڈر ہیں۔ آر سی بی17 کروڑ روپے کے اس کھلاڑی کو خارج کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، ورنہ ول جیکس مڈل آرڈر میں بھی کھیل سکتے تھے۔ دوسرا، میکسویل گیند اور بیٹ دونوں کے ساتھ اپنے طور پر ایک بڑا میچ ونر ہے۔ جہاں تک آر سی بی کی بولنگ کا تعلق ہے تو فاسٹ بولنگ شعبہ کے لیڈر محمد سراج ہوں گے۔ ان کے علاوہ آکاش دیپ اور یش دیال اس ٹیم کے اہم فاسٹ بولر ہوں گے۔ ریس ٹوپلے کو بطور غیر ملکی بولر ٹیم میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ کرن شرما کو آر سی بی کے لیے اسپن کی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔