خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کو 57 ہزار کروڑ بلاسودی قرض کی فراہمی

   

ایک کروڑ خواتین کو کروڑپتی بنانے کا نشانہ، اسمبلی میں ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا کا بیان

حیدرآباد 17 مارچ (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرامارکا نے دعویٰ کیاکہ رعیتو بھروسہ اسکیم کے علاوہ دھان کی پیداوار کے بونس کے طور پر کسانوں کو فی کس 25 ہزار روپئے ادا کئے جارہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت فی کنٹل 500 روپئے بونس کے حساب سے امدادی رقم کسانوں کے بینک اکاؤنٹ میں راست طور پر جمع کررہی ہے۔ رعیتو بھروسہ اسکیم کے تحت 9 ہزار کروڑ کسانوں کے اکاؤنٹس میں منتقل کئے گئے۔ گزشتہ 9 دنوں کے دوران یہ رقم منتقل کی گئی ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے قانون ساز اسمبلی میں گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر مباحث کے دوران مداخلت کرتے ہوئے بی آر ایس رکن کے ٹی آر کے الزامات کا جواب دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ سیلف ہیلپ گروپ سے تعلق رکھنے والی خواتین کو ہر سال 20 ہزار کروڑ روپئے بلاسودی قرض جاری کیا جارہا ہے جو خواتین کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کیا جاتا ہے۔ گزشتہ 2 برسوں میں 57 ہزار کروڑ سیلف ہیلپ گروپس کی خواتین کو جاری کئے گئے۔ اُنھوں نے الزام عائد کیاکہ بی آر ایس دور حکومت میں سیلف ہیلپ گروپس کی خواتین کو نظرانداز کردیا گیا تھا۔ اُنھوں نے کہاکہ کے ٹی آر نے بحث کے دوران جو ریمارکس کئے ہیں، اُن سے خواتین کا وقار مجروح ہوگا۔ 10 برسوں میں خواتین کی بھلائی کو نظرانداز کرنے والے بی آر ایس قائدین اسمبلی میں جھوٹی ہمدردی ظاہر کررہے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ کانگریس حکومت سیلف ہیلپ گروپس کو بلاسودی قرض کی فراہمی کے عہد کی پابند ہے اور 5 برسوں میں ایک کروڑ خواتین کو کروڑپتی بنانے کا نشانہ ہے۔ حکومت کے حلف لینے کے چند گھنٹوں میں مہا لکشمی اسکیم پر عمل آوری کا آغاز کیا گیا جس کے تحت آر ٹی سی میں خواتین کو مفت سفر کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ سابق حکومت نے ڈبل بیڈ روم مکانات کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا لیکن 10 برسوں میں یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔ کانگریس حکومت نے ریاست بھر میں اندراماں ہاؤزنگ کے تحت 4.5 لاکھ مکانات کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے جس پر 22500 کروڑ کے مصارف آئیں گے۔ ہر اسمبلی حلقہ میں 3500 اندراماں ہاؤزنگ مکانات منظور کئے گئے اور مکان کی تعمیر کے لئے 5 لاکھ روپئے کی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ اُنھوں نے دعویٰ کیاکہ کانگریس حکومت الیکشن سے قبل عوام سے کی گئی 6 ضمانتوں کے وعدے پر عمل پیرا ہے۔ اُنھوں نے اپوزیشن ارکان کو مشورہ دیا کہ وہ بے بنیاد تنقیدوں کے بجائے حکومت کو تعمیری تجاویز پیش کرتے ہوئے فلاحی اسکیمات پر مؤثر عمل آوری کو یقینی بنائے۔ کے سی آر نے تلنگانہ کے پہلے چیف منسٹر کے طور پر دلت کو مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن برسر اقتدار آتے ہی کے سی آر خاندان نے ذمہ داری سنبھال لی۔1