خواجہ سراؤں کو جی ایچ ایم سی کا سہارا

   

چاروں کو ملازمت، 155 کو خودروزگار کیلئے 1.55 کروڑ روپئے قرض کی فراہمی
حیدرآباد ۔ 16 اگست (سیاست نیوز) سماج میں طویل عرصے سے امتیازی سلوک کا شکار رہنے والوں کو اب مدد مل رہی ہے۔ انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنے کیلئے چند لوگ آگے آرہے ہیں۔ امتیازی سلوک کا شکار ہونے والے بھی اب خود روزگار حاصل کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ یہ سب خواجہ سراؤں کے حوالے سے معاشرے میں آنے والی تبدیلی اور ان کے مستقبل پر اعتماد کا ثبوت ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کے احکامات کے پیش نظر سرکاری محکمے خواجہ سراؤں کو ملازمت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے اقدامات کررہے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن (جی ایچ ایم سی) نے ایک تنظیم کے ساتھ مل کر 155 خواجہ سراؤں کو مختلف امور میں تربیت فراہم کی ہے۔ ان میں 151 خواجہ سراؤں کو خودروزگار کیلئے بینک نے 1.50 کروڑ روپئے کا قرض فراہم کرنے میں جی ایچ ایم سی نے اہم رول ادا کیا ہے۔ حیدرآباد کمشنریٹ کے حدود میں ٹریفک شعبہ میں 38 خواجہ سرا ٹریفک اسسٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ جی ایچ ایم سی کے تعاون سے چندانگر میں لائٹ ہاؤس کمیونٹی اسکل سنٹر چند عرصے سے بیروزگاروں کو مفت تربیت فراہم کررہا ہے۔ اسی کے ایک حصے کے طور پر 4 خواجہ سراؤں مدھوراج، عمران خان، نوین اور ورون تیج نے اس تربیتی سنٹر سے گرافک ڈیزائن کورس میں 15 دن کی تربیت حاصل کی۔ میئر حیدرآباد جی وجئے لکشمی اور کمشنر آر وی کرنت نے جمعہ کو جی ایچ ایم سی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ یوم آزادی کی تقریب میں چاروں کو ملازمت کے آفر لیٹر پیش کئے۔ خواتین کی سیلف ہیلپ گروپس کی طرح جی ایچ ایم سی کے ذریعہ خواجہ سراؤں کو بینک لنکج لون فراہم کئے جارہے ہیں۔ جی ایچ ایم سی نے 155 خواجہ سراؤں کو بینکوں سے 1.55 کروڑ روپئے بطور قرض فراہم کرنے کی پہل کی ہے۔2