خواجہ گوڑہ کی قدیم چٹانوں کو خطرہ ‘ سبزہ زار کی غیر قانونی صفائی

   


سروے اور حد بندی کرنے کی نمائندگیاں بے اثر ۔ ایچ ایم ڈی اے کی جی ایچ ایم سی پر ذمہ داری ڈالنے کی کوشش
حیدرآباد /2 ستمبر ( سیاست نیوز ) خواجہ گوڑہ کی قدیم پہاڑیوں میں مزید غیر قانونی ڈرلنگ کے اندیشے پیدا ہوگئے ہیں کیونکہ اس علاقہ میں سبزہ زار کے کچھ حصے کو غیر قانونی طور پر صاف کردیا گیا ہے ۔ جہد کاروں کو شبہ ہے کہ یہاں مزید پہاڑیوں اور چٹانوں کو تباہ کردیا جائیگا ۔ کئی ہفتوں سے شہریوں کی جانب سے احتجاج کرتے ہوئے حکومت تلنگانہ سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ اس مقام کا تحفظ کیا جائے۔ جہد کاروں کی جانب سے حیدرآباد میونسپل ڈیولپمنٹ اتھاریٹی ( ایچ ایم ڈی اے ) سے بھی نمائندگی کی جا رہی ہے کہ خواجہ گوڑہ کی چٹانوں کی حصار بندی کی جائے ۔ ایچ ایم ڈی اے کی ذمہ داری ہے کہ اس مقام کا تحفظ کرے ۔ اس نے سروے کیلئے ٹنڈرس بھی طلب کئے تھے تاہم ابھی تک سروے شروع بھی نہیں ہوسکا ہے ۔ قبل ازیں ایچ ایم ڈی اے کے عہدیداروں نے یہ بھی کہا تھا کہ خواجہ گوڑہ کی چٹانوں کا سروے شروع ہوچکا ہے تاکہ حد بندی کی جاسکے ۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ کام ابھی شروع نہیں ہوا ہے ۔ جب رابطہ کیا گیا تو ایچ ایم ڈی اے کے عہدیداروںن ے کہا کہ اس مسئلہ پر ذمہ داری جی ایچ ایم سی کو دی گئی ہے ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس پر جی ایچ ایم سی حکام سے استفسار کیا جائیگا ۔ موجودہ صورتحال میں جہد کاروں کو تشویش ہے کہ خواجہ گوڑہ کی چٹانوں میں تباہی کا ایک اور سلسلہ شروع کردیا جائیگا ۔ اس علاقہ میں تعمیراتی سرگرمیوں کے نتیجہ میں پہلے ہی قدیم چٹانوں کو نقصان ہوچکا ہے ۔ ایک جہدکار نے بتایا کہ ہم سمجھ رہے تھے کہ جس علاقہ میںسبزہ زار کو صاف کردیا گیا ہے وہاں سروے کیا جائیگا ۔ اس مقام پر کچھ حد بندی بھی ہوئی ہے تاکہ وہ بھی غیر قانونی ہے کیونکہ یہ کام خانگی بلڈرس نے کیا ہے ۔ خانگی بلڈرس نے یہی درخت کاٹے ہیں اورزیادہ تر مزید چٹانوں کو نقصان ہوگا ۔ جہد کاروں اور کوہ پیمائی کرنے والوں نے مقامی بلڈرس کے خلاف یہ محاذ آرائی شروع کی ہے جو خواجہ گوڑہ میں چٹانوں کو نقصان پہونچا رہے ہیں۔ احتجاج بھی کیا گیا تھا جس کے بعدیہ مسئلہ توجہ حاصل کرسکا ہے ۔ وزیر آئی ٹی و بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے بھی عہدیداروں کو اس کا جائزہ لینے کی ہدایت دی ہے ۔ ہیریٹیج کارکنوں کا کہنا ہے کہ چٹانوں کو تباہ کرنے کے علاوہ خواجہ گوڑہ کی پہاڑیوں پر مندر کی تعمیر بھی تشویش کا باعث ہے ۔ جو ٹرسٹ اننتا پدمانابھا سوامی مندر چلاتا ہے اس کا کہنا ہے کہ ایچ ایم ڈی اے کی مدد سے یہ مندر تعمیر کی جا رہی ہے ۔ مندر ٹرسٹ اور جہدکاروں کے مابین مندر بھی تنازعہ کا سبب بنی ہوئی ہے ۔ جو جہد کار چٹانوں کا تحفظ کرنے قانونی لڑائی لڑ رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ خواجہ گوڑہ کی پہاڑیوں پر تقریبا 40 برس پرانی چٹانوں پر مندر کا تذکرہ ملتا ہے ۔ جو ٹرسٹ ہے وہ بھی ایک دستاویز ہمیشہ دکھاتا ہے جو مندر کو حق بجانب قرار دیتا ہے ۔ یہ مندر چٹان کی چوٹی پر ہے جو ایک واحد سروے نمبر کے تحت ہے ۔ جو دستاویز دکھایا جاتا ہے اس میں تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ مندر کے قبضہ میں کتنی زمین ہے ۔