خود مختار فلسطینی ریاست سے اسرائیلی انکار پر برطانیہ کو مایوسی

   

لندن: فلسطینی ریاست کے قیام کے سلسلے میں برطانیہ کو اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کے موقف سے مایوسی ہوئی ہے۔ یہ مایوسی اسرائیلی ریاست کی تصور کی بانی اور اسرائیل کے انتہائی اولین سہولت کار برطانیہ کے وزیراعظم کے دفتر جاری کردہ بیان میں ظاہر کی ہے، تاہم برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کے اس بیان میں خود مختار فلسطینی ریاست کے بارے برطانیہ کی حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے۔واضح رہے اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ کے سب سے بڑے حامی امریکہ کے صدر جو بائیڈن اور نتن یاہو کے درمیان جاری مسئلے کے حل کے لئے مستقبل کی دو ریاستی حل پر عدم اتفاق سامنے آیاہے۔ ایک آزاد فلسطینی ریاست جس کے قیام کے حق میں اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں۔ مگر پچھلے 75 برسوں سے اسرائیل فلسطینیوں کے جائز حق سے انکاری۔ اسرائیلی وزیر اعظم۔نے اہک بار پھر اسی انکار کو دہرایا ہے۔نتن یاہو نے کہا کہ دریائے اردن کے مغربی علاقہ میں اسرائیلی کنٹرول کو کمزور نہیں کرے گا۔ یاہو نے یہ بات زور دے کر کہی ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم کے ان خیالات پر برطانوی وزیر اعظم کے ترجمان نے کہا ‘ ہمیں اسرائیلی وزیر اعظم کی طرف سے سن کر مایوسی ہوئی ہے۔