پٹرول اور ڈیزل سے زیادہ خوردنی تیلوں کی قیمتوں میں اضافہ سے عوام پریشان
تیل کا تہلکہ
l پٹرول کی قیمتوں کے ساتھ بڑھتی خوردنی تیل کی قیمتیں
l 10 دن کے عرصہ میں 10 فیصد کا اضافہ
l ریٹیل فی لیٹر 170 روپئے تک پہنچ گیا
l پام آئیل میں 115 روپئے تک کا اضافہ
حیدرآباد : ملک بڑھتی ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ اب خوردنی تیل کی قیمتیں بھی دن بہ دن آسمان کو چھورہی ہیں بلکہ ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں سے زیادہ تیز خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ گذشتہ 2 تا 3 ماہ کے عرصہ میں پٹرول ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 10 روپئے سے زائد کا اضافہ ہوا ہے تو وہیں خوردنی تیل کی قیمت میں ایک ہفتہ کے درمیان 10 فیصد کا زبردست اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان بڑھتی قیمتوں کا گذشتہ سال سے تقابل کیا جائے تو قیمتوں میں راست 25 تا 50 فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور اس بات کی تصدیق قومی صارفین کے امور کی نگران کار ادارے نے خود کی ہے۔ ان بڑھتی قیمتوں سے عام آدمی کو پیش آرہی مشکلات اور قیمتوں میں کمی کیلئے درکار اقدامات کیلئے جائزہ لینے کیلئے مرکزی حکومت نے وزراء کی ایک کمیٹی کو تشکیل دیا۔ (انٹر میٹریئل کمیٹی) جو بہت جلد جائزہ اجلاس منعقد کرے گا۔ خوردنی تیل کی قیمتوں میں جاریہ سال بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ عالمی سطح پر خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ کی اہم وجہ تیل کے استعمال میں اضافہ کے ساتھ ساتھ پیداوار میں کمی بتائی جاتی ہے اور قومی سطح پر غیرمعمولی اضافہ کی اصل وجہ دیگر ممالک سے درآمد میں کمی ہوئی ہے چونکہ ملک میں خوردنی تیل کیلئے بیرونی ممالک سے درآمد پر کافی انحصار کرنا پڑتا ہے جس کے سبب ملک میں قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ملک کی ضرورت کا 80 فیصد تیل بیرونی ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کے سبب بین الاقوامی مارکٹ سے درآمد اور اشیاء کی قیمتیں بھی بڑھ ہیں۔ مرکز کے اعدادوشمار کے مطابق تیل کی ہول سیل قیمت فی لیٹر 137 روپئے تھی جو راست 170 روپئے فی لیٹر تک پہنچی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر خوردنی تیل کی قیمتوں میں 107 روپئے فی لیٹر سے 155 روپئے فی لیٹر تک پہنچی ہے جبکہ پام آئیل تیل کی قیمت میں 86 روپئے فی لیٹر سے 35 روپئے فی لیٹر کا اضافہ ہوا ہے اور یہ قیمت فی لیٹر 121 روپئے تک پہنچی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سویا وناسپتی تیل کی قیمتوں میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے اور قیمتوں میں اضافہ کا تذکرہ خود کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کیا ہے جو صارفین کے امور کی نگرانی کرتی ہے۔ گذشتہ 10 دنوں کے دوران خوردنی تیل کی قیمتوں میں 6 روپئے تا 10 روپئے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف ریاست کے سرکاری لحاظ سے گذشتہ سال 122 روپئے فی لیٹر ہول سیل کی قیمت اب 153 روپئے فی لیٹر پہنچ چکی ہے اور ریٹیل میں 170 روپئے پر قیمت پہنچ گئی ہے۔ مارکٹ کے ماہرین کے مطابق فی الحال جن فصلوں کی پیداوار جاری ہے اگر جلد ہی یہ فصلیں کٹوائی کو پہنچ جاتے ہیں اور مارکٹ میں خوردنی تیل کیلئے تیار دستیاب رہتی ہیں تو پھر قیمتوں میں کسی حد تک کمی ہوسکتی ہے۔