خوشحال ملک کیلئے ڈپازیٹرس کی رقم کی ضمانت ضروری: وزیر اعظم

   

بیمہ رقم کی ادائیگی کی ضمانت کے موضوع پر منعقدہ پروگرام سے مودی کا خطاب

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ ایک خوشحال ملک کے لیے مضبوط بینک ہونے چاہئے اور اس کیلئے بینک میں ڈپازیٹرس کی جمع رقم محفوظ ہونی چاہیے۔ اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ان کی حکومت نے ایک لاکھ روپے کے ڈپازٹ انشورنس کور کو بڑھا کر نہ صرف پانچ لاکھ روپے کر دیا ہے بلکہ اس کے لئے 90 دن کی مدت بھی مقررکر دی ہے تاکہ بینک ڈوب جانے پر ڈپازیٹرس کو محنت کی کمائی کے لئے پریشان نہ ہونا پڑے۔پی ایم مودی نے یہ باتیں ڈپازٹر فرسٹ: 5 لاکھ روپے تک کی مدت کے لئے جمع رقم بیمہ کی ادائیگی کی ضمانت کے موضوع پر منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند مہینوں میں ایک لاکھ سے زیادہ ڈپازیٹرز کو اسی طرح کے معاملات میں 1300 کروڑ روپے کی رقم مل چکی ہے اور آئندہ چند مہینوں میں مزید تین لاکھ لوگوں کو ڈپازٹ انشورنس کے تحت ادائیگی کی جانی ہے۔ اسے دنیا کی سب سے بڑی ڈپازٹ گارنٹی بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس طرح 76 لاکھ کروڑ روپے کی گارنٹی دی جا رہی ہے۔

مودی کے ہاتھوں آج کاشی وشواناتھ کاریڈور کا افتتاح
وارانسی: وارانسی کی تصویر بدلنے اور اس کے تہذیبی، روحانی اور تعلیمی مرکز ہونے کی پرانی شبیہ کو بحال کرنے کے دعوی والے پراجکٹ کاشی وشواناتھ کاریڈور کا وزیر اعظم نریندر مودی کل افتتاح کریں گے ۔ریاست کی گورنر آنندی بین پٹیل اور چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ اس تقریب میں شرکت کریں گے ۔وزیر اعظم کے عظیم کاشی کے ویژن کے تحت تیار کیا گیا کاریڈور جہاں ایک طرف عقیدت مندوں کو گنگا سے مندر تک آسان آمدورفت کی سہولیت فراہم کرے گا دوسری طرف نہ صرف وارانسی بلکہ پورے پوروانچل کو ترقی کے نئے منازل پر لے جائے گا۔اس سے نہ صرف سیاحت میں اضافہ ہوگا بلکہ کاروبار اور تجارت کو فروغ حاصل ہوگا جس سے خطے میں نوجوانوں کے لئے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے۔
افسران نے اتوار کو بتایا کہ20۔25فٹ چوڑاکاریڈور گنگا ندی کے للتا گھاٹ کو مندر کے احاطے میں واقع مندر چوک سے جوڑتا ہے ۔کاشی وشوناتھ کاریڈور سے قبل مندر کو گنگا سے نہیں دیکھا جاسکتا تھا اور عقیدت مندوں کو مندر تک رسائی کے لئے متعدد تنگ،گندی اور گنجان گلیوں سے ہوکر گذرنا پڑتا تھا۔
وزیر اعظم کا ویژن کاریڈور کے ذریعہ کاشی کو اسمارٹ سٹی میں تبدیل کرنا تھا۔ان کا مقصد ایک ایسے کاریڈور کی تعمیر تھا جو عقیدت مندوں اور سیاحوں کے لئے تمام طرح کی سہولیات سے لیس ہو۔اور اس تمام کے دوران کاشی کا روحانی و تہذیبی ورثہ پوری طرح محفوظ رہے ۔کاشی میں 70کلو میٹر لمبے پنچ کوشی روٹ کو 108اہم مندروں،44شلٹر ہومس،پول،اور گیسٹ ہاوس کو مزین کرکے اسے ایک بین الاقوامی شکل دی گئی ہے ۔گودولا ملٹی لیول پارکنگ کو اس طرح سے بنایا گیا ہے جس میں زائرین و سیاحوں کی سینکڑوں گاڑیاں پارک کی جاسکتی ہیں۔ جبکہ سیاحت کو فروغ دینے کے لئے گنگا میں کروز سہولیت کو متعارف کرایا گیا ہے ۔وارانسی۔غازی پور ہائی وے پر تین لین فلائی اووربنایا گیا ہے ۔ساتھ ہی ہائی وے پر متعدد فوٹ کورٹ و کیفے تعمیر کئے گئے ہیں۔وارانسی کے باشندوں کے دوستانہ ماحول سے متاثر ہوکر ‘رودر رکشک کنونشن سنٹر’ جاپان کے تعاون سے بنایا گیا ہے جس کے اخراجات کا حجم تقریبا 186کروڑ روپئے ہے ۔سنٹر میں 1200افراد کے بیک وقت بیٹھنے کی سہولیت ہے ۔ جس میں جدید سہولیات جیسے میٹنگ روم،آرٹ گیلری اور کثیر مقصدی پری فنکشن مقامات دستیاب ہیں۔سنٹر فنکاروں کو اپنے فن کے مظاہرے اور عوام سے تبادلہ خیال کی سہولیت بھی فراہم کرتا ہے ۔ علاوہ ازیں موثر ٹریفک کنٹرول اور پولیس منجمنٹ وطبی ایمرجنسی کو ہینڈل کرنے کے لئے انٹگریٹیڈ کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر(آئی سی سی)بنایا گیا ہے ۔ آئی سی سی سنٹر کورونا وائرس کی دوسری لہر میں کافی معاون ثابت ہوا۔مزید یہ کہ اسمارٹ پولیسنگ کے مقصد کے تحت 720مقامات کے حساس جگہوں پر 3000سی سی ٹی کیمرے لگائے گئے ہیں۔جو زائرین کو مزید سیکورٹی فراہم کرتے ہیں۔پورے شہر میں چھ مقامات پر ایل ای ڈی اسکرین لگائی گئی ہیں۔ جوکہ شہر کے تعلق سے اہم اطلاعات فراہم کرتی ہیں۔اس اور اس طرح کی وارانسی کے دیگر پروجکٹوں کا مقصد کاشی کو نئی شناخت اور اس کے تہذبی و روحانی ورثہ کو قائم رکھتے ہوئے اسے صاف وشفاف و اسمارٹ سٹی بنانا ہے ۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آج اگر کوئی بھی بینک بحران میں آتا ہے تو جمع کنندگان کو 5 لاکھ روپے تک ضرور ملیں گے۔ اس کے ساتھ تقریباً 98 فیصد جمع کنندگان کے کھاتوں کو مکمل طور پر کور کر دیا گیا ہے۔ آج جمع کنندگان کے 76 لاکھ کروڑ روپے مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ ایسا جامع سیکورٹی کور ترقی یافتہ ممالک میں بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی خوشحالی میں بینکوں کا بہت بڑا کردار ہے اور بینکوں کی خوشحالی کے لیے ڈیپازٹرز کی رقم کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
اگر ہم بینک کو بچانا چاہتے ہیں تو جمع کنندگان کو تحفظ دینا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کئی سالوں کے دوران بہت سے چھوٹے پبلک سیکٹر کے بینکوں کو بڑے بینکوں کے ساتھ ضم کرکے ان کی صلاحیت، اہلیت اور شفافیت کو ہر طرح سے مضبوط کیا گیا ہے۔ جب آر بی آئی کوآپریٹیو بینکوں کی نگرانی کرے گا اس سے ان میں عام جمع کنندگان کا اعتماد مزید بڑھے گا۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک اپنے مسائل کو بروقت حل کرکے ہی انہیں مزید بگڑنے سے بچا سکتا ہے۔ لیکن برسوں تک مسائل کو التوا میں ڈالنے کا رجحان رہا۔ آج کا نیا ہندوستان مسائل کے حل پر زور دیتا ہے، آج کا ہندوستان مسائل کو التوا میں نہیں رکھتا۔ پی ایم مودی نے کہا کہ یہاں مسئلہ صرف بینک کھاتے کا ہی نہیں ہے بلکہ دور دراز گاوؤوں کو بینکنگ خدمات فراہم کرنے کا بھی ہے۔ آج، ملک کے تقریباً ہر گاؤں میں 5 کلومیٹر کے دائرے میں بینک کی شاخ یا بینکنگ نمائندے کی سہولت موجود ہے۔ آج، ہندوستان کا عام شہری دن میں کسی بھی وقت، کہیں بھی، 24 گھنٹے ڈیجیٹل طور پر چھوٹے سے چھوٹے لین دین کرنے کا اہل ہے۔ کچھ سال پہلے تک اس کے بارے میں سوچنا تو دور کی بات، ہندوستان کی صلاحیت پر یقین نہ رکھنے والے لوگ اس کا مذاق اڑاتے تھے۔